حوادث طبعی یا عذاب الٰہی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 29 of 103

حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 29

حوادث طبعی یا عذاب الہی اہمیت تھی اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس نے صرف دو کارندے اس غرض کے لئے مدینہ روانہ کئے کہ نعوذ باللہ سید کو نین صلیالی کم کو پکڑ کر اس کے سامنے لائیں۔اس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ اس وقت کی دنیا نے ظہور حضرت محمد صلی لی ہم کو کیا اہمیت دی ہو گی۔پس دنیا کا کوئی لامذہب بھی اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتا کہ ہر نبی اپنے دعوی کے وقت کمزور ہی نہیں بلکہ اہل دنیا کو اتنا کمزور نظر آتا ہے کہ اس کا ہونا یا نہ ہونا گویا ان کے نزدیک برابر ہوتا ہے۔آدم سے لے کر حضرت محمد مصطفی صلی اللی کم تک بلا استثناء ہمیشہ یہی کہانی دوہرائی گئی۔دوم: اس کے بعد ہر لا مذہب اور منکر دین کو اس حقیقت سے بھی انکار کی گنجائش نہیں کہ وہ عظیم سلطنتیں اور عظیم قو میں جو اپنے وقت کے نبی کو پر پشہ کی حیثیت بھی نہیں دیتی تھی۔” حوادث زمانہ “ ( اہل مذہب کے نزدیک عذاب الہی کا شکار ہو گئیں۔اور ان کی صف اس دنیا سے یکسر لپیٹ دی گئی اور ان کے مذاہب مٹ گئے اور ان کے نظریات فنا ہو گئے اور کچھ بھی ان کا باقی نہ رہا سوائے اس ذکر کے جو تاریخ کے صفحات میں پھیلا ہوا ہے لیکن وہ جن کا کچھ ذکر ان لوگوں کی تاریخ کے صفحات میں نہیں ملتا وہ ایک ناقابل فہم معمہ بن کر ان سلطنتوں اور قوموں پر غالب آگئے وہ باقی رہے اور اس شان سے باقی رہے کہ ان کے نظریات ہی آج غالب نظریات کے طور پر زندہ موجود ہیں ان کے مذاہب نے دنیا کے عظیم خطوں کو گھیر رکھا ہے یہاں تک کہ آج دنیا میں بسنے والے لوگوں کی غالب اکثریت وہ ہے جو کسی نہ کسی ایسے نبی، رشی یا او تار کی طرف منسوب ہوتی ہے جو اپنے وقت کا کمزور ترین انسان تھا۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ان قوموں کے مٹنے کا باعث حوادث زمانہ تھے تو عقلاً ان کا اوّل شکار اس زمانہ کے کمزور ترین انسان ہونے چاہئیں تھے نہ کہ انتہائی طاقتور اور حکمران قو میں۔۔۔؟ حوادث زمانہ کو یہ تمیز کہاں سے آئی کہ کمزور اور طاقتور میں ایسی تمیز کرے کہ کمزور کا معین و مددگار اور طاقتور کا جان لیوا دشمن بن جائے؟ سوم: ایک تیسری حقیقت جو اسی تعلق میں نمایاں طور پر نظر آتی ہے اور کوئی لا مذہب اور بے دین انسان اس کا بھی انکار نہیں کر سکتا کہ وہ یہ ہے کہ وہ بستیاں جو زلازل کا شکار ہوئیں اور مسلسل چلنے والی آندھیوں کے نتیجہ میں تہہ بہ تہہ خاک کے تودوں کے نیچے دب کر تباہ ہو گئیں 29