حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 25
حوادث طبعی یا عذاب الہی عذاب الہی کی مختلف اقسام کا بیان چونکہ پہلے گزر چکا ہے اس لئے اس کی تکرار کی ضرورت نہیں۔یہاں صرف عذاب الہی کی امتیازی علامات کا ذکر ہو رہا ہے تو پہلی علامت قرآن کریم سے یہ ثابت ہوتی ہے کہ وقت سے پہلے عذاب الہی کی خبر دے دی جاتی ہے اور بسا اوقات اس کی نوعیت کی بھی تعیین کر دی جاتی ہے۔دوسری امتیازی علامت دوسری امتیازی علامت ہمیں یہ معلوم ہوتی ہے کہ عذاب الہی کے واقع ہونے کو ایک ایسی شرط کے ساتھ باندھ دیا جاتا ہے جس کا کسی پہلو سے بھی ان عوامل کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا۔جس کے نتیجہ میں کوئی ارضی و سماوی حادثہ رونما ہو سکے۔حضرت صالح علیہ السلام کے عہد کی مثال ہمارے پیش نظر ہے۔وہ خوفناک دھما کہ جسے آتش فشاں پہاڑ کا پھٹنا کہہ لیں یا غیر معمولی قوت کی گھن گرج قرار دے لیں یا اچانک زمین کے پھٹنے کے نتیجہ میں ایک ہیبت ناک آواز تصور کر لیں۔غرضیکہ اس ”صیحہ واحدة “ کی جو شکل بھی چاہیں تجویز کر لیں۔یہ امر تو بہر حال انسان کو تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ اس ”صیحہ کا اونٹنی کی کونچیں کاٹنے سے کوئی تعلق اور واسطہ نہیں یعنی اس کے نتیجہ میں یہ واقعہ رونما نہیں ہو سکتا۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جو طبعی ذریعہ بھی حضرت صالح کی قوم کی ہلاکت کے لئے تجویز ہواوہ کوئی اتفاقی حادثہ نہیں تھا بلکہ ایک غیر معمولی تقدیر تھی۔جب تک قوم حضرت صالح کی اونٹنی کا پانی بند کرنے اور اس کی ایذاء رسانی سے باز رہی اذن الہی کی نکیل نے اس ہولناک حادثہ کو رونما ہونے سے سختی سے روکے رکھا لیکن جونہی اونٹنی کا پانی بند کیا گیا۔اور کونچیں کاٹی گئیں تو قوانین طبعی کو اپنی جولانیاں دکھانے کی اجازت دے دی گئی۔تیسری امتیازی علامت تیسری علامت جو حادثات طبعی کو عذاب الہی سے ایک غیر معمولی امتیاز بخشتی ہے وہ یہ ہے کہ عذاب الہی کو اس بات کی اجازت نہیں دی جاتی کہ وہ کافروں کے ساتھ مومنوں کو بھی ہلاک کر 25