حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 26
حوادث طبعی یا عذاب الہی دے بلکہ بلا استثناء ہر ایسے حادثے کے وقت مومن بچالئے جاتے ہیں اور منکرین ہلاک کر دیئے جاتے ہیں۔اگر چہ قرآن کریم میں بعض ایسے قومی عذابوں کا ذکر ملتا ہے جن کے نتیجہ میں منکرین کے ساتھ مومن بھی کسی قدر تکلیف اٹھاتے ہیں لیکن یہ عذاب ایک استثنائی حیثیت رکھتے ہیں اور ان کا مقصد مختلف ہوتا ہے۔ہم عذابوں کی جن اقسام پر بحث کر رہے ہیں یہ وہ عذاب ہیں جو مومن اور غیر مومن میں تفریق کے لئے آتے ہیں اور جن کے متعلق وقت کے انبیاء واضح الفاظ میں یہ خبر دے دیا کرتے ہیں کہ یہ خدا کے پاک بندوں کو کوئی ضرر نہیں پہنچا سکیں گے۔یہ ایک ایسا امتیاز ہے جس کا کوئی طبعی جواز نظر نہیں آتا۔آخر کیوں ایک معمول کے مطابق ہونے والا حادثہ قوم کے بھاری اکثریت کو تو ہلاک کر دے لیکن چند لوگوں سے استثنائی سلوک کرتے ہوئے بغیر گزند پہنچائے پاس سے گزر جائے۔صرف یہی نہیں بلکہ اس سے عجیب تر بات یہ ہے کہ قوم کے طاقتور اور دنیاوی سروسامان سے متمتع غالب قوتوں والے حصہ کو تو ہلاک کر دے جس کے پاس حوادث سے بچنے کے زیادہ سے زیادہ ظاہری سامان موجود ہوتے ہیں لیکن چند کمزور اور ضعیف اور بے سر و سامان لوگوں کو گزند پہنچانے کی اسے کوئی قدرت حاصل نہ ہو۔چو بھی امتیازی علامت چوتھی علامت یہ ہوا کرتی ہے کہ عذاب الہی کے بعد وہ نظریہ حیات یا تو کلیتہ مٹادیا جاتا ہے یا مغلوب کر دیا جاتا ہے جو عذاب الہی سے پہلے طاقتور اور غالب ہو تا ہے اور وہ نظریہ حیات جو عذاب الہی سے پہلے نہایت کمزور اور مغلوب حالت میں پایا جاتا ہے یہاں تک کہ اس کے زندہ رہنے کے کوئی ظاہری سامان نظر نہیں آتے وہ عذاب الہی کے بعد نہایت قوی اور غالب صورت میں تیزی کے ساتھ نشو و نما پانے لگتا ہے۔حتی کہ نظریات کے میدان میں کبھی تو ایسے تنہا عظیم فاتح کے طور پر دکھائی دیتا ہے۔جس کا مد مقابل کلیۂ خاک میں مل چکا ہو اور کبھی ایسے فتحمند جرنیل کی شکل میں نظر آتا ہے۔جس کا حریف نہایت کمزوری اور ذلت کی حالت میں اس کے غلبہ کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو چکا ہو۔جو اہل مذاہب مذہبی تاریخ کو تسلیم کرتے ہیں جو آسمانی صحیفوں میں ان کے لئے محفوظ کی گئی ان کے لئے تو مذکورہ امور ایک مسلمہ حقیقت کی حیثیت رکھتے ہیں۔26