حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 22
حوادث طبیعی یا عذاب الہی يَضُرَّعُونَ - ثُمَّ بَدَّلْنَا مَكَانَ السَّيِّئَةِ الْحَسَنَةَ حَتَّىٰ عَفَوْا وَقَالُوا قَدْ مَسَّ أَبَاءَنَا الضَّرَّاءِ وَالسَّرَّاءُ فَأَخَذْ هُمْ بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ (سورۃ الاعراف: ۹۵-۹۶) ترجمہ : اور ہم نے کسی شہر کی طرف کوئی رسول نہیں بھیجا ( مگر یوں بھی ہوا کہ ) ہم نے اس میں بسنے والوں کو سختی اور مصیبت سے پکڑ لیا تاکہ وہ عاجزی اور زاری کریں۔پھر ہم نے تکلیف کی جگہ سہولت کو بدل دیا یہاں تک کہ جب وہ ترقی کر گئے اور کہنے لگے۔کہ تکلیفیں اور سکھ تو ہمارے باپ دادوں پر بھی آیا کرتے تھے (اگر ہمیں آئے تو کوئی نئی بات نہیں ) پس ہم نے ان کو اچانک عذاب سے پکڑ لیا اور وہ سمجھتے نہ تھے (کہ ایسا کیوں ہوا)۔ہمارا یہ محض کہہ دینا کہ یہ اعتراض قدیم سے کیا جارہا ہے کوئی مثبت تسلی بخش جواب قرار نہیں دیا جا سکتا۔جب تک ہم ان تغیرات کو جو عذاب الہی کا نام پاتے ہیں دوسرے عام تغیرات سے ممتاز کر کے اس طرح پیش نہ کریں کہ ایک بین فرق نظر آنے لگے اور دل مطمئن نظر آنے لگیں اور یہ کہ دونوں طبعاً ایک ہونے کے باوجود دونوں الگ الگ دائروں سے تعلق رکھتے ہیں۔اس وقت تک یہ مضمون مکمل نہیں ہو سکتا۔قبل ازیں فرعون کی ہلاکت کے ذکر میں ایک ایسا پہلو بیان کیا جا چکا ہے۔جو فرعون کی ہلاکت کے طبعی سامان کو اس سے ملتے جلتے دوسرے واقعات سے قطعی طور پر ممتاز کر کے دکھاتا یعنی قرآن کی پیش گوئی کے مطابق فرعون کی لاش کا انتہائی مشکل حالات میں محفوظ رکھا جانا اور سینکڑوں سال کے بعد دریافت ہو کر انسان کے لیے عبرت کا نشان بننا۔اس واقعہ کو عذاب الہی ثابت کرنے کا ایک ٹھوس ثبوت پیش کرتا ہے لیکن اس پر بات ختم نہیں ہو جاتی قرآن کریم ایسے نمایاں اور واضح دلائل پیش کرتا ہے جس پر غور کرنے سے ایک منصف مزاج کی عقل باسانی مطمئن ہو سکتی ہے۔عذاب الہی کا نظام اگر چہ ایک پہلو سے عام طبعی قوانین سے تعلق رکھتا ہے۔مگر بعض دوسرے پہلوؤں سے ایسی الگ اور ممتاز حیثیت رکھتا ہے کہ دونوں میں نمایاں فرق ہو جائے۔اس حصہ 22