حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 18
حوادث طبعی یا عذاب الہی (سورۃ الفیل : ۴-۵-۶) كَعَصْفٍ مَّاكُوْلٍ۔ترجمہ : اور ان کی لاشوں) پر جھنڈ کے جھنڈ پرندے بھیجے (جو) ان (کے گوشت) کو سخت قسم کے پتھروں پر مارتے ( اور نوچتے) تھے۔سو اس کے نتیجہ میں اس نے انہیں ایسے بھوسے کی مانند کر دیا جسے جانوروں نے کھالیا ہو۔(۱۱) کسی بڑی جھیل یاڈیم کا اس طرح اچانک تباہ ہو جانا کہ گویا پوری کی پوری جھیل کسی قوم پر عذاب کی شکل میں الٹ دی گئی ہو۔فَصَبٌ عَلَيْهِمْ رَبُّكَ سَوْطَ عَذَابٍ۔اِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ۔(سورة الفجر :۱۴-۱۵) ترجمہ : جس پر تیرے رب نے ان پر عذاب کا کوڑا بر سایا۔تیرارب یقیناً گھات میں (لگا ہوا) ہے۔(۱۲) موسمی تغیرات کے نتیجہ میں خشکی تری اور ہوا کے ایسے جانوروں کا بکثرت پیدا ہو جانا۔جو مشیت الہی کے مطابق کسی قوم میں عذاب کے سے حالات پیدا کر دیویں یا مختلف بیماریوں کی افزائش کا موجب ہوں مثلاً ٹڈی دل، مینڈک، جوئیں، پسو، مچھر اور اس قسم کے دوسرے حشرات الارض اور ایسے جراثیم جو خونی بیماریاں پیدا کر دیں مثلاً پیچش اور جریان خون سے تعلق رکھنے والی بیماریاں وغیرہ۔فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الطُّوْفَاتِ وَالْجَرَادَ وَالْقُمَّلَ وَالصَّفَادِعَ وَالدَّمَ أَيتٍ (سورۃ الاعراف: ۱۳۴) مفصلت۔۔۔۔ترجمہ : تب ہم نے ان پر طوفان اور ٹڈیاں اور جوئیں اور مینڈک اور خون بھیجا۔یہ الگ الگ نشان تھے۔(۱۳) کسی قوم پر ایسی دوسری قوم کو مسلط کرنا جو ان کو طرح طرح کے عذابوں میں مبتلا ہیں اور ایسا ایمان لانے کے نتیجہ میں نہ ہو بلکہ دیگر عوامل اس کے ذمہ دار ہوں مثلاً یہود کے 1 سوط جو ہر کو بھی کہتے ہیں یعنی اس نشیب دار زمین کو بھی سوط کہا جاتا ہے جہاں پانی جمع ہو جاتا ہے۔(اقرب الموارد) 18