حوادث طبعی یا عذاب الٰہی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 95 of 103

حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 95

عذاب حوادث طبعی یا عذاب الہی معمولی اور نا قابل اعتناء واقعہ نہیں اور اس کے نتیجہ میں طاعون کے عذاب کا بالآخر ٹل جانانہ تو سنت اللہ کے خلاف ہے نہ پیشگوئی کی صداقت پر حرف لانے کا موجب بن سکتا ہے۔تاہم اس موقعہ پر ایک غلط فہمی کا ازالہ بھی ضروری ہے۔ہمارا عذاب ٹلنے سے یہ مطلب ہر گز نہیں کہ چند لوگوں کے استغفار سے سلسلہ عذاب ہی ہمیشہ کے لئے منقطع کر دیا جاتا ہے۔محض ایک عذاب کا استغفار کے نتیجہ میں ٹل جانا اور چیز ہے اور سلسلہ عذاب کا کلیۂ منقطع ہو جانا اور چیز۔فرعون کی قوم پر جو پے در پے عذاب آئے وہ بعض یا اکثر دلوں میں خوف خدا پیدا ہونے کے نتیجہ میں ٹل جاتے رہے لیکن جب تک وہ آخری مقصد پورا نہ ہو ا جو دراصل ان عذابوں کی علت غائی تھا سلسلہ منقطع نہ ہوا۔سلسلہ عذاب کا آخری مقصد بہر حال مامور زمانہ کی فیصلہ کن فتح ہوا کرتا ہے۔یعنی یا تو اکثریت ایمان لے آتی ہے یا اکثریت ہلاک ہو جاتی ہے۔اس پہلو سے جب ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی پر مزید نگاہ دوڑائیں گے تو معلوم ہو جائے گا کہ طاعون ایک وسیع تر سلسلہ عذاب کی ایک کڑی تھا۔یہ کڑی زمانہ کے جس دور پر محیط تھی اس دور میں اس نے اپنا مفوضہ کام بڑی عمدگی اور صفائی کے ساتھ سر انجام دیا اور وہاں جاکر ر کی جہاں عذاب کی ایک دوسری کڑی نے اس سے ذمہ داری کا علم سنبھال لیا۔اس نقطہ کو سمجھ کر جب ہم مامورین گزشتہ کے حالات پر نظر ڈالتے ہیں تو ایک ”میڈلے ریس “ یعنی ایسی دوڑ کا سا نظارہ دکھائی دیتا ہے جس میں دوڑنے والا جب ایک مقررہ مقام پر پہنچتا ہے تو اس کا دوسر ا سا تھی اس سے جھنڈا لے کر آگے بڑھنا شروع ہو جاتا ہے اور پھر ایک تیسر اسا تھی یہ جھنڈا اس سے لے کر اگلی دوڑ سنبھال لیتا ہے منزل مقصود تک پہنچنے کے لئے یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہتا ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں اس میڈلے ریس میں قرآنی بیان کے مطابق پانچ عذابوں کی ایک ٹیم نے حصہ لیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی اللہ تعالیٰ نے ایسے پے درپے عذابوں کی خبر دی ہے جو آخر مقصد کے حصول تک ایک دوسرے کے بعد آتے چلے جائینگے ، طاعون ان میں سے ایک تھا۔ایک اور پہلو سے جب ہم طاعون کے عذاب پر نظر ڈالتے ہیں تو پیشگوئی کی زیر نظر شق کے ایک نئے مفہوم کی طرف توجہ مبذول ہو جاتی ہے جو دلچسپ بھی ہے اور ہولناک بھی۔جب ہم یہ 95