حوادث طبعی یا عذاب الٰہی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 96 of 103

حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 96

حوادث طبعی یا عذاب الہی کہتے ہیں کہ فلاں چیز پیچھا نہیں چھوڑے گی جب تک فلاں بات ظاہر نہ ہو تو جس چیز کا ذکر کیا جارہا ہو اس کی عادات و اطوار کے مطابق ”پیچھا نہ چھوڑے“ کے معنوں کی تعیین کی جاتی ہے۔قبل ازیں یہ ذکر گذرا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کے زمانہ میں بھی طاعون عذاب الہی کے طور پر عیسائیت کی تائید میں ظاہر ہوئی تھی اور اس نے دشمنوں کا پیچھا نہ چھوڑا تاوقتیکہ انہیں مغلوب نہ کر لیا۔اس تاریخی پس منظر میں جب ہم یہ کہتے ہیں کہ طاعون نے پیچھا نہ چھوڑا تو مراد یہ ہے کہ مسلسل تین صدیوں تک یہ عیسائیت کی تائید میں کرشمے دکھانے اور عیسائیت کو بڑھانے اور دشمن کو کم کرنے کے لئے ظاہر ہوتی رہی۔طبعاً ذہن اس طرف منتقل ہوتا ہے کہ مسیح اوّل کے دور کی طرح مسیح ثانی کے دور میں بھی طاعون کے پیچھا نہ چھوڑنے کا یہ مطلب تو نہیں کہ تاوقتیکہ احمدیت کو فتح نصیب نہ ہو یہ تقریباً ایک ایک سوسال کے وقفے سے عذاب الہی کی صورت میں ظاہر ہو تا رہے گا اور پیچھانہ چھوڑے گاجب تک کہ احمدیت کی آخری فتح کا منہ دیکھ لے۔کوئی اور چاہے تو اسے ایک ذوقی استنباط قرار دے لے مگر میرے دل میں تو گمان غالب یہی ہے کہ اسی طرح ہو گا اور مسیح ثانی کے دور میں بھی طاعون دو یا تین صد سالہ جلوے دکھائے گا۔وَاللهُ اَعْلَمُ بِالصَّوَاب۔اگر میرایہ استنباط درست ہے تو طاعون کی حیثیت عذاب کی ایک کڑی کی نہیں رہتی بلکہ بذات خود ایک سلسلہ عذاب کہلائے گا جو کڑیوں پر مشتمل ہے۔مزید بر آن اگر میر امندرجہ بالا استدلال درست ہے تو طاعون کی جلوہ نمائی کا دوسرا دور قریب آچکا ہے اور بعید نہیں کہ آئندہ چند سال میں یہ ظاہر ہو جائے اور ۲۰۰۰ عیسوی تک ایک ہولناک عالمگیر و با کی شکل اختیار کر جائے۔اگر ایسا ہو تو جماعت احمدیہ کے لئے اس میں تنبیہ بھی ہے اور بشارت بھی۔تنبیہ یہ ہے کہ صرف احمدیت کا عنوان طاعون سے بچانے کے لئے کافی نہ ہو گا بلکہ تقویٰ کی شرط بھی ساتھ لگی ہوئی ہے۔اور مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت پر ایمان کے ساتھ تقویٰ کی زندگی بسر کرنا اور ہر قسم کے تکبر اور نخوت کو ترک کر دینا بھی طاعون سے بچنے کے لوازمات میں شامل ہیں۔بشارت کا پہلو یہ ہے کہ جماعت میں اس وقت تک جو عملی کمزوریاں آچکی ہوں گی طاعون کا خوف بڑی تیزی کے ساتھ ان کی اصلاح کرے گا اور وہ احمد کی جو حضرت مسیح 96