حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 91
حوادث طبیعی یا عذاب الہی ۸- حکیم محمد شفیع (سیالکوٹ ) جو بیعت کر کے مرتد ہو گیا تھا جس نے مدرسہ القرآن کی بنیاد ڈالی تھی آپ کا سخت مخالف تھا۔آخر وہ بھی طاعون کا شکار ہوا اور اس کی بیوی اور اس کی والدہ اور اس کا بھائی سب یکے بعد دیگرے طاعون سے مرے اور اس کے مدرسے کو جو لوگ امداد دیتے تھے وہ بھی ہلاک ہو گئے۔(حقیقة الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۲۳۸) ۹- مرزا سر دار بیگ سیالکوٹی جو اپنی گندہ زبانی اور شوخی میں بہت بڑھ گیا تھا۔۔۔۔وہ بھی سخت طاعون میں گرفتار ہو کر ہلاک ہوا۔ایک دن اس نے شوخی سے جماعت احمدیہ کے ایک فرد کو کہا کہ کیوں طاعون طاعون کرتے ہو ہم تو تب جانیں کہ ہمیں طاعون ہو بس اس سے دو دن بعد طاعون سے مر گیا۔(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۲۳۸) ۱۰۔مولوی محمد ابو الحسن نے حضرت اقدس کے خلاف کتاب ” بجلی آسمانی بر سر دجال قادیانی لکھی جس میں کئی مقامات پر کاذب کی موت کے لئے بد دعا کی۔آخر جلد ہی طاعون سے مر گیا۔۔۔دیکھنے والوں نے بیان کیا ہے کہ انہیں دن تک پلیگ میں مبتلاء رہ کر چینیں مارتے رہے اور نہایت درد ناک حالت میں جان دی۔تاریخ احمدیت جلد دوم صفحه ۴۸۰-۴۷۹) ۱۱۔ابو الحسن عبد الکریم نام نے جب اس کتاب کا دوسرا ایڈیشن شائع کرنا چاہا تو وہ ( تاریخ احمدیت جلد دوم صفحه ۴۸۰) بھی طاعون کا شکار ہو گیا۔۱۲۔ایک شخص فقیر مر زادوالمیال ضلع جہلم کا رہنے والا تھا اس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف بہت کچھ بد زبانی کر کے یہ تحریری پیشگوئی کی کہ "مرزا غلام احمد صاحب کا سلسلہ ۲۷۔رمضان المبارک ۱۳۲۱ھ تک ٹوٹ پھوٹ جاوے گا اور بڑی بڑی سخت درجہ کی ذلت وارد ہو گی جسے تمام دنیا دیکھے گی۔یہ پیشگوئیے۔رمضان کو لکھی گئی تھی۔سو اگلے سال جب دو سرار مضان آیا تو اس کے محلہ میں طاعون نمودار ہو گئی۔پہلے اس کی بیوی اور پھر خود فقیر مرزا سخت 91