حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 2
حوادث طبعی یا عذاب الہی کا واقف ہو چکا ہے ان تمام مصائب یا حوادث کے تہ بہ تہ عوامل اور محرکات کی گہری تحقیق کر کے بہت سے سربستہ رازوں پر سے پردہ اٹھا چکا ہے، یہ سوال مادہ پرست انسان کے لیے بھی اور اہل مذاہب کے لیے بھی دوہری اہمیت اختیار کر چکا ہے۔اہل مذاہب کے بارہ میں یہ کہنا یقینا درست ہو گا کہ آج یہ سوال پہلے سے کئی گنا بڑھ کر اہم اور قابل توجہ بن چکا ہے کیونکہ پہلے دنیا جس خیال کو ظاہری مشاہدات کی بناء پر مانتے چلے آرہے تھے۔آج ان کے ہاتھ میں صرف ظاہری مشاہدہ کا ہتھیار ہی نہیں بلکہ عالم طبعی کی تہہ بہ تہہ جستجو کے نتیجہ میں جو حقائق وہ دریافت کر چکے ہیں وہ سب اس طرف اشارہ کرتے نظر آتے ہیں کہ تمام امور قوانین طبعی کا طبعی نتیجہ میں اور کسی مافوق البشر ہستی کی دخل اندازی سے ان کا کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔اہل مذاہب اس کے بر عکس ابھی تک اسی مقام پر کھڑے نظر آتے ہیں جس پر وہ پہلے تھے اور کوئی ایسی نئی تحقیق مذاہب کے ماننے والوں کی طرف سے پیش نہیں کی گئی جو اس موقف کی مزید تائید یا تصدیق کر سکے۔کہ حوادث زمانہ کا کوئی تعلق کسی مافوق البشر ہستی سے ہے۔جماعت احمدیہ چونکہ از سر نو بڑے زور دار اصرار کے ساتھ اس نظریہ کو دنیا کے سامنے پیش کر رہی ہے کہ حوادث اور مصائب کی صورت میں جو مظاہر طبعی ہمیں نظر آتے ہیں ان کا تعلق یقیناً اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کے ساتھ بھی ہے۔اس لیے خصوصیت کے ساتھ جماعت احمدیہ کی یہ ذمہ داری ہے کہ جماعت سے وابستہ محققین اور مبصرین اس مسئلہ کے ہر پہلو کی چھان بین کر کے صرف اس امر کی وضاحت کریں کہ جماعت احمدیہ کے اس نظریہ کا حقیقی مفہوم کیا ہے بلکہ اس نظریہ کی تائید اور تصدیق میں ایسے دلائل بھی پیش کریں جو نئے علوم کی روشنی میں بنائی ہوئی عقل کو مطمئن کر سکیں۔آج دنیا کا جو انسان ہمارا مخاطب ہے وہ ہزار دو ہزار یا پانچ ہزار سال کے انسان کی نسبت مادی علم کے میدان میں اتنا آگے نکل چکا ہے کہ محض دعاوی کی تکرار سے اور کسی نظریہ کو بلند آواز سے بیان کرنے کے نتیجہ میں ہر گز تسلی نہیں پاسکتا۔پس مذہب اور لادینیت کی جنگ میں ایک یہ بھی میدان ہے جو ابھی سر کرنے والا ہے۔اس وقت تک تو اس معرکہ کا جو نتیجہ ظاہر ہوا ہے وہ مذاہب کی شکست اور لامذہبیت کی فتح دکھائی دیتا ہے۔یہ فتح اس حد تک نمایاں نظر 2