حوادث طبعی یا عذاب الٰہی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 52 of 103

حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 52

حوادث طبعی یا عذاب الہی طرح بھیگ چکی تھی۔اسلام کی پہلی تین صدیوں کے اختتام پر جہاں ہمیں روحانی آفات شدت سے سر اٹھاتی نظر آتی ہیں وہاں سیاسی لحاظ سے بھی ایسے محرکات پیدا ہو رہے تھے جو بالآخر مسلمانوں کی سیاسی قوت کو سبو تاژ کرنے کا موجب بنے۔تیسری صدی ہجری کے آخر پر ہمیں یہ انتہائی الم انگیز اور ہولناک صورت حال نظر آتی ہے کہ پوپ مرکزی اسلامی خلافت سے مسلمانوں کی ہسپانوی حکومت کے خلاف سازش کر رہا تھا۔1 جس کے نتیجہ میں بالآخر مسلمانوں کی مرکزی حکومت اس امر پر آمادہ ہو گئی کہ ہسپانیہ کی اسلامی مملکت کے خلاف وہ یورپ کی عیسائی طاقتوں کے ساتھ تعاون کرے گی۔عالم اسلام کے عظیم الشان قلعہ میں یہ پہلا رخنہ ہے جو بالآخر اس قلعہ کے مسمار ہونے پر منتج ہوا۔بعد کے تین سو سال نے اس سیاسی انحطاط کو بڑی سرعت اور شدت کے ساتھ بڑھایا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ چودھویں صدی عیسوی میں اسلامی سلطنت کے دونوں بازو یعنی شرقی اور غربی عملاً مفلوج ہو چکے تھے اور ایک طرف مغرب کی عیسائی طاقتیں پیہم جذبات سے سپین کی اسلامی مملکت کو کمزور کر رہی تھی اور یورپ سے مسلمانوں کو نکالنے کا منصوبہ عملاً بروئے کار لا رہی تھی تو دوسری طرف مشرقی چنگیزیوں کا ہولناک عذاب صحرائے گوبی میں اس طرح پرورش پارہا تھا جیسے ٹڈی دل کا لشکر سر سبز و شاداب دنیا کی نظروں سے اوجھل ریگستانوں میں ایک عظیم یورش کی تیاری کر رہا ہو۔چھٹی صدی ہجری میں ہمیں پہلی مرتبہ یہ المناک منظر دکھائی دیتا ہے کہ یورپ کے شمال میں اثر و نفوذ بڑھنے کی بجائے مسلمانوں کو سسلی اور کریٹ سے نکال کر افریقی ساحل کی طرف دھکیل دیا گیا۔مسلمانوں کو بزور شمشیر نکالنے کا یہ عمل اس وقت تک جاری رہا جب تک بالاآخر اس واقعہ کے قریباً ایک سو سال بعد سپین میں مسلمانوں کے آخری قلعہ غرناطہ کو بھی عیسائیوں نے بزور شمشیر فتح کر لیا اور کلیۂ ہسپانیہ کی سرزمین سے مسلمانوں کا صفایا کر دیا۔اسی طرح چھٹی صدی بھی مسلمانوں کی تاریخ میں وہ دردناک صدی ہے جب چنگیزیوں کے انبوہ کثیر غول بیابانی کی طرح ناگاہ مسلمانوں کی مشرقی سلطنت پر ٹوٹ پڑے اور بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔بڑی بڑی بلند عمارتیں پیوند خاک ہو گئیں لیکن اس حقیقت کی 1 ماخوذ از تفسیر کبیر از حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ ، جلد دوم صفحہ ۱۶۔52