حوادث طبعی یا عذاب الٰہی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 44 of 103

حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 44

حوادث طبیعی یا عذاب الہی قرآن کریم میں اور بھی بہت سے مقامات پر جن کا پہلے بھی ذکر گزر چکا ہے ایسے عذابوں کا اشارہ ملتا ہے جن کا دور آخر سے تعلق ہے لیکن اب یہ سوال پید اہوتا ہے کہ جب چودہ سو سال کے عرصہ میں جب دنیا ان چیزوں کو بھلا بیٹھی اور صدیوں پہلے کی تنبیہات نقش کا لعدم کی طرح انسانی ذہنوں سے مٹ چکی ہیں تو پھر کیا اللہ تعالیٰ کا عذاب بغیر کسی تنبیہ ٹو کے زمانہ کو آپکڑے گا؟ اس سوال کا جواب بھی عملاً اوپر گزر چکا ہے اور یہ واضح کیا جا چکا ہے کہ عذاب الہی کے نئے دور سے پہلے اس امام کا ظہور مقدر تھا جس نے از سر نو دنیا کو آنے والے کڑے وقت سے خبر دار کر دیا تھا۔یہ خبر کس طرح دی اور آنے والے عذاب کی کیا تفاصیل بیان کیں اور کس حد تک یہ خبریں پوری ہو چکی ہیں اور کس حد تک پورا ہونا ابھی باقی ہیں۔یہ وہ امور ہیں جس پر ہم آئندہ قسط میں بحث کریں گے۔جماعت احمدیہ کا یہ دعویٰ ہے کہ دنیا کے موجودہ بے پناہ مصائب اور تکالیف کا یہ نہ ختم ہوتا ہو ا سلسلہ کوئی عام روز مرہ کے واقعات کی زنجیر نہیں بلکہ عذاب الہی کی حیثیت رکھتا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پہلے ہی سے ان امور کے متعلق باخبر کر دیا تھا اور بڑی واضح اور بین پیشگوئیوں کے ذریعہ اہل دنیا کو متنبہ کر دیا تھا کہ اسلام کے غلبہ نو کا دور شروع ہو چکا ہے اگر آنحضرت صلی اللی کم اور آپ کی امن بخش تعلیم کے سامنے دنیا نے سر تسلیم خم نہ کیا تو اللہ تعالیٰ پے در پے عذابوں سے اس دنیا کو جھنجوڑ جھنجوڑ کر خواب غفلت سے بیدار کرے گا۔یہ سلسلہ جاری رہے گا اور ختم نہ ہو گا جب تک کہ اسلام کو آخری اور قطعی عالمگیر غلبہ نصیب نہ ہو جائے۔آئیے ہم اس مضمون کے مختلف حصوں کا جائزہ لیں کہ بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ نے اپنے مشن کو کس طرح پورا فرمایا اور اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس مشن پرمامور تھے۔عذاب الہی کی جو قسمیں قرآن کریم کی بیان کردہ مذہبی تعلیم کی روشنی میں پیش کی گئی ہیں ان کے ذکر کے وقت یہ امر نظر انداز ہو گیا تھا کہ انبیاء کی بعثت کے بغیر بھی بعض اوقات طبعی حوادث کو عذاب کا نام دیا جاتا ہے۔یہ اس صورت میں ہوتا ہے جب کوئی قوم اپنے اعمال اور 44