حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 27
حوادث طبیعی یا عذاب الہی لیکن وہ لوگ جو کسی مذہب سے وابستہ نہیں یا وابستہ ہونے کے باوجو د دہریت اور لادینیت کا شکار ہیں وہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ مذکورہ بالا چاروں علامتیں تاریخ مذاہب سے حاصل کی گئی ہیں اور ہمیں اس تاریخ کا کوئی اعتبار نہیں۔اس لئے ہمارے نزدیک ان کی حیثیت دلائل کی نہیں محض دعاوی کی ہے لیکن ادنی سے تدبر سے یہ معلوم ہو جائے گا کہ مذکورہ بالا دعاوی اپنے ساتھ ایسے دلائل اور شواہد بھی رکھتے ہیں جن کی کوئی لامذ ہب بھی تردید نہیں کر سکتا۔میں اپنے مدعا کی مزید وضاحت کے لئے ذیل میں چند امور قارئین کی خدمت میں پیش کرتا ہوں:- اول: دنیا کا کوئی لا مذ ہب یا بے دین انسان اس تاریخی حقیقت کا انکار نہیں کر سکتا کہ جب بھی کسی نبی یا مصلح نے خدا تعالیٰ کی طرف سے اذن پا کر دنیا کو ہدایت کی طرف بلایا کوئی دنیاوی ذریعہ اس کے پاس ایسا نہ تھا جس سے وہ اپنے مخالفین پر غالب آسکتا۔اس کے برعکس اس کے مخالفین کو ہر پہلو سے اس پر مکمل دنیاوی فوقیت حاصل تھی۔کیا بلحاظ تعداد ، کیا بلحاظ مال و دولت، کیا بلحاظ سیاسی قوت اور کیا بلحاظ اسباب جنگ، ہر پہلو سے وہ اس دعویدار کے مقابل پر اتنے طاقتور اور قوی تھے کہ ادنی سی دنیاوی کوشش کے نتیجہ میں اسے اور اس کے چند ماننے والوں کو ہلاک کر دینے کی پوری طاقت رکھتے تھے۔ایسے انبیاء اور مصلحین کی کمزوری کا کچھ تصور اس حقیقت۔بھی لگایا جاسکتا ہے کہ دنیاوی تاریخ کسی نبی کے ظہور کے واقعہ کو اپنے زمانہ میں ایک ایسا معمولی واقعہ سمجھتی ہے جیسے کسی وسیع جھیل میں سے ایک بچے کے ہاتھ میں پھینکی ہوئی کنکر سے کچھ کمزور لہریں پیدا ہوں۔حضرت عیسی کے زمانہ میں حضرت عیسی کو اور واقعہ صلیب کو جو اہمیت حاصل تھی اس کا آج جو ہم تصور باندھے ہوئے ہیں اس عہد کے انسان کا تصور اس سے بالکل مختلف تھا۔ہم چونکہ نسلاً بعد نسل اس عظیم واقعہ کا ذکر سنتے آئے ہیں اس لئے ہم خواہ مخواہ یہ خیال کرنے لگتے ہیں کہ حضرت عیسی کا دعویٰ اور بعد میں رونما ہونے والا واقعہ صلیب اس زمانہ کے انسانوں کی نظر میں بھی کوئی بڑی اہمیت رکھتا تھا۔ہمارا یہ گمان ہر گز حقیقت پر مبنی نہیں۔عظیم سلطنت روما کے ایک گوشے میں رونما ہونے والے اس واقعہ نے اس زمانہ کے مؤرخین کی توجہ اس حد تک بھی اپنی 27