حوادث طبعی یا عذاب الٰہی — Page 7
حوادث طبیعی یا عذاب الہی منحرف ہو گئے کہ گو زبان نے تو انکار نہ کیا لیکن اعمال نے اس کا جوا اتار پھینکا اور ایک آزاد مادی اور مادہ پرست یورپین سوسائٹی رونما ہوئی جو عیسائیت کی قید سے ہر عملی پہلو میں آزاد تھی۔پس مسلمانوں کو اس المیہ سے یہ سبق سیکھنا چاہئے اور خصوصاً احمدیوں کو کہ وہ اسلام کے عالمگیر غلبہ کے لیے کوشاں ہیں۔غیر معمولی احتیاط سے کام لینا چاہئے اور کسی نظریہ کو مذہب کی طرف منسوب نہ کرنا چاہئے جس کا مذہب دعویدار نہ ہو۔جہاں تک قرآن کریم، احادیث نبویہ، اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات سے ظاہر ہوتا ہے کہیں بھی اسلام کا یہ دعویٰ نظر نہیں آتا کہ ہر طبعی حادثہ اور تغیر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب کا حکم رکھتا ہے۔ہاں یہ دعویٰ ضرور ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بسا اوقات مادی اور طبعی قوانین کو ان مادی طاقتوں کی ہلاکت پر مامور کر دیا جو روحانی اور مذہبی اقدار کی نہ صرف منکر تھیں بلکہ مادی ذرائع کو استعمال کر کے روحانی اور مذہبی اقدار کو مٹانے کے درپے تھیں۔پس جب بھی یہ صورت ظاہر ہو کہ مادی نظریات روحانی نظریات سے ٹکرا جائیں اور مادی طاقت مذہبی اقدار کے خلاف علم بغاوت بلند کرے اور سرکشی میں بڑھتی چلی جائے تو ایسی صورت میں قرآنی نظریہ کے مطابق قوانین طبعی کو ہی ایسی مادی طاقتوں کو مٹانے یا مغلوب کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔گو یا لوہا لوہے کو کاتا ہے یا انگریزی محاورے کے مطابق To set a thief to catch a thief کا منظر نظر آتا ہے یعنی وہ لوگ جو کسی مافوق البشر طاقت کے منکر اور صرف موجود مادی دنیا کے ہی قائل ہوتے ہیں انہی کی مسلمہ موجود مادی دنیا کو ان کی ہلاکت اور تباہی پر مامور کر دیا جاتا ہے۔ایسے واقعات کو مذہبی اصطلاح میں عذاب الہی کا نام دیا جاتا ہے اور اس نظریہ سے کوئی ٹکر او یا مقابلہ نہیں کہ ایسے واقعات اپنے پس منظر میں طبعی عوامل رکھتے ہیں۔مثلاً فرعون کی غرقابی کے واقعہ کو ہی لے لیجئے۔نیل کے ڈیلٹا میں فرعون اپنے قافلے سمیت غرق ہوا۔روزانہ دو مر تبہ جوار بھاٹا آیا ہی کرتے تھے۔اب ان گنت سالوں سے یعنی جب سے کہ دریائے نیل وجود میں آیا اس کا پانی سمندر میں داخل ہوتے وقت روزانہ اسی اتار چڑھاؤ کا منظر پیش کرتا رہا۔خدا جانے کتنے جانور یا ابتدائی انسان یا ابتدائی ہیئت کے انسان یا بعد کے غیر مہذب خانہ بدوش قبائل، 7