نصائح مبلغین

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 16 of 30

نصائح مبلغین — Page 16

16 پھر غیر احمدی کبھی تمہارے کسی شہر میں جانے پر کسی مولوی کو نہ بلائیں گے۔نہ ہندوکسی پنڈت کو اور نہ عیسائی کسی پادری کو۔بلکہ وہ تمہارے ساتھ محبت سے پیش آئیں گے۔یہی وجہ ہے کہ اسلام نے بڑے بڑے لوگوں کو جو کسی مذہب میں گزر چکے ہوں گالیاں دینے سے روکا ہے۔اسلام اس بات کا مدعی ہے کہ تمام دنیا کے لئے نبی آئے اور انہوں نے اپنی امتوں میں ایک استعداد پیدا کر دی پھر بتا یا کہ اسلام تمام دنیا کے لئے تبلیغ کرنے والا ہے۔تبلیغ میں یہ یاد رکھو کہ کبھی کسی شخص کے قول سے گھبراؤ نہیں اور نہ قول پر دارو مدار رکھو۔دلیل اور قول میں فرق ہے دلیل پر زور دینا چاہئے۔لوگ دلیل کو نہیں سمجھتے مسلمان آریوں سے بات کرتے ہوئے کہہ دیتے ہیں قرآن میں یوں آیا ہے آریوں کے لئے قرآن حجت نہیں۔تم رویہ دلیل کو پیش کرنے کا اختیار کرو تا جماعت احمدیہ میں یہ رنگ آجائے۔دلائل سے فیصلہ کرو عقلی دلائل بھی ہوں اور نقلی بھی۔دلیل ایسی نہ ہو کہ حضرت مولوی نورالدین اتنے بڑے عالم تھے وہ بھلا مرزا صاحب کو ماننے میں غلطی کر سکتے تھے۔پس چونکہ انہوں نے مرزا صاحب کو مان لیا اس لئے حضرت صاحب سچے ہیں۔ایسی دلیل نہیں ہونی چاہئے بلکہ دلیل سے بات کرو تا کہ جماعت میں دلائل سے ماننے کا رنگ پیدا ہو۔اگر جماعت میں دلائل سے ماننے کا رنگ پیدا ہو جائے گا تو پھر وہ کسی شخص کے جماعت سے نکلنے پر گھبرائیں گے نہیں۔سچی اتباع پیدا کرو۔جھوٹی اتباع نہ ہو آریوں کے سامنے قرآن شریف دلیل کے طور پر پیش کرو۔اس طرح پیش نہ کرو کہ تم مانتے ہو۔ایک اور دھوکا بھی لگتا ہے کہ بعض پھر دعوی کے لئے بھی دلیل مانگتے ہیں۔دعوئی پڑھو تو کہتے ہیں دلیل دو۔جہاں دعوی کا اثبات ہو وہاں دعویٰ خود دلیل ہوتا ہے۔مثلاً حضرت صاحب کی نسبت کوئی پوچھے کہ مرزا صاحب نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے تو ہم دعویٰ پڑھ دیں