نصائح مبلغین — Page 17
17 گے۔اور اس کی دلیل دینے کی ضرورت نہیں کیوں کہ اس نے دعویٰ مانگا ہے۔لاہوریوں اور ہمارے درمیان حضرت صاحب کا دعوی ہی دلیل ہے۔جب بحث کر و تو مد مقابل کی بات کو سمجھو کہ وہ کیا کہتا ہے۔مثلاً تناسخ کی بات شروع ہوئی ہو تو فورا تناسخ کے رد میں دلائل دینے نہ شروع کرو۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات سے لیکر چھوٹے سے چھوٹے مسئلے میں بھی اختلاف آتا ہے۔اب اگر تم اس کے برخلاف دلیلیں دینے لگ پڑو اور آخر میں وہ کہدے کہ آپ تو میری بات سمجھے ہی نہیں تو تقریر بے فائدہ جا ئے گی۔اس کی بات سمجھو کہ آیا وہ وہی تو نہیں کہتا جو تمہارا بھی عقیدہ ہے۔بغیر خیالات معلوم کئے بات نہ کرو۔تناسخ کے متعلق بات کرو تو پوچھو کہ تمہارا تناسخ سے کیا مطلب ہے۔اس کی ضرورت کیا پیش آئی۔غرض ایسے سوالات کر کے پہلے اس کی اصل حقیقت سے آگاہ ہو اور پھر بات کرو۔اس طرح اول تو اس کے دعوئی میں ہی اور نہیں تو پھر دلیلوں میں ہی تمہیں آسانی پیدا ہو جائے گی۔کوئی گورنمنٹ اپنے دشمن کو اپنا قلعہ نہیں دکھاتی۔قانون بنے ہو ئے ہیں۔اگر کوئی کوشش کرے تو پکڑا جاتا ہے۔کیونکہ کمزور موقعہ معلوم کر کے پھر اس پر آسانی سے حملہ ہو سکتا ہے۔اس لئے پہلے کمزور موقعے معلوم کرو اور پھر حملہ کرو۔تھوڑے وقت میں بہت کام کرنا سیکھو تھوڑے وقت میں بہت کام کرنا ایسا گر ہے که انسان اس کے ذریعے سے بڑے بڑے عہدے حاصل کرتا ہے۔انسان محنت کرتا ہے اور ایک وائسرائے بھی۔مزدور آٹھ آنے روز لیتا ہے وائسرائے ہزاروں روپیہ روز۔کیا وجہ ؟ وہ تھوڑے وقت میں بہت کام کرتا ہے۔اس کا نام لیاقت ہے۔دوسرا طریق دوسروں سے کام لینے کا ہے۔بڑے بڑے عہدے دار خود تھوڑا کام کرتے ہیں دوسروں سے کام لیتے ہیں۔وہ تو خوب تنخواہیں پاتے ہیں لیکن ایک محنتی مزدور آٹھ آنہ ہی