نصائح مبلغین — Page 8
8 سوال و خوشامد کی عادت نہ ڈالو پھر نفس کے لئے لجاجت، خوشامد ، سوال کی عادت نہیں ہونی چاہئے۔یہ بھی علماء میں بڑا بھاری نقص ہے کہ وعظ کیا اور بعد میں کچھ مانگ لیا۔اور کوئی ایسا گرا ہوا نہ ہوا تو اس نے دوسرے پیرایہ میں اپنی ضرورت جتادی۔مثلاً ہمارا کنبہ زیادہ ہے گزارہ نہیں ہوتا یا کسی دوسرے الفاظ میں لوگوں کو سنا دیا کہ کچھ روپے کی یا کوٹ وغیرہ کی ضرورت ہے۔ایسا نہیں ہونا چاہئے۔اللہ تعالیٰ پر توکل چاہئے اسی سے مانگنا چاہئے۔حضرت مسیح موعود کو الہام ہوا تھا کہ تیرے پاس ایسا مال لایا جائے گا کہ مال لانے والوں کو الہام ہو گا کہ مسیح موعود کے پاس لے کر جاؤ۔پھر وہ مال آتا ہے۔کوئی کہتا تھا کہ حضور مجھے فلاں بزرگ نے آکر خواب میں کہا اور کوئی کہتا تھا حضور مجھے الہام ہوا۔اللہ پر توکل کرو، وہ خود تمہارا کفیل ہوگا میرا اپنا تجربہ ہے کہ جب ضرورت ہوتی ہے تو خدا تعالیٰ کہیں نہ کہیں سے بھیج دیتا ہے۔خدا تعالیٰ خود لوگوں کے دلوں میں تحریک کرتا ہے۔جو دوسروں کا محتاج ہو پھر اس کے لئے ایسا نہیں ہوتا۔ہاں اللہ تعالیٰ پر کوئی بھروسا کرے تو پھر اللہ تعالیٰ اس کے لئے سامان پیدا کرتا ہے۔حضرت مولوی صاحب سنایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ مجھے کچھ ضرورت پیش آئی، میں نے نماز میں دعا مانگی مصلیٰ اٹھانے پر ایک پونڈ پڑا تھا میں نے اسے لیکر اپنی ضرورت پر خرچ کیا۔تو خدا تعالیٰ خودسامان کرتا ہے۔کسی کو الہام کرتا ہے کسی