نصائح مبلغین — Page 21
21 احمدیت ہے۔پھر اس بات کا احساس پیدا کرنا بھی ضروری ہے کہ دین کا اب سب کام ہم پر ہے۔جب یہ کام ہم پر ہے تو ہم نے دنیا کے کتنے مفاسد کو دور کرنا ہے۔پھر اس کے لئے کتنی بڑی قربانی کی ضرورت ہے۔اس بات کو پیدا کرو کہ ہر ایک آدمی مبلغ ہے۔صحابہ سب مبلغ تھے۔اگر ہر ایک آدمی مبلغ ہو گا تب اس کام میں کچھ آسانی پیدا ہوگی۔اس لئے ہر ایک احمدی میں تبلیغ کا جوش پیدا کرو۔پھر مالی امداد کا احساس پیدا کرو۔اگر چہ ہماری جماعت کا معیار تو قائم ہو گیا ہے کہ فضول جگہوں میں جو روپیہ خرچ کیا جاتا ہے مثلاً بیاہ شادیوں میں ، وہ اب دین کے کاموں میں خرچ ہوتا ہے۔لیکن یہ احساس پیدا ہونا چاہئے کہ ضروریات کو کم کر کے بھی دین کی راہ میں روپیہ خرچ کیا جائے۔جماعت کا اکثر حصہ ست ہے۔کچھ لوگ ہیں جو بہت جوش رکھتے ہیں۔لیکن یہ بات پوشیدہ نہیں کہ آخر میں سارا بوجھ انہیں لوگوں پر پڑ کر ان لوگوں میں سستی آنی شروع ہو جائے گی۔تو ایک حصہ پہلے ہی شست ہوا اور دوسرا پھر اس طرح ست ہو گیا تو یہ اچھی بات نہیں۔اس لئے چاہئے کہ جماعت کو ایک پیمانہ پر لایا جائے۔جماعت کی یہ حالت ہے کہ اخبار میں چندے کے متعلق نکلے تو کان ہی نہیں دھرتے۔ہاں علیحدہ خط کی انتظار میں رہتے ہیں۔لیکن اگر کسی شخص کا لڑکا گم ہوا ہو اور اخبار میں نکل جائے تو جس کے ہاں ہوتا ہے وہ اسے وہیں روک لیتا ہے خط کی انتظار نہیں کرتا۔ان کے دلوں میں ایسا جوش پیدا کرو کہ جو نہی یہ دین کے لئے آواز سنیں فوراً دوڑ پڑیں۔پہلے مبلغ اپنی زندگی میں یہ احساس پیدا کریں۔