نصائح مبلغین — Page 12
12 آئے ہیں۔تو یہ دورنگ ہونے چاہئیں کہ اگر سب سے بڑا خادم ہو تو ہمارا مبلغ ہو اور اگر لوگوں کے دلوں میں کسی کا ادب ہو تو وہ ہمارے مبلغ کا ہو۔اس کے لئے وہ اپنے مال قربان کرنے کے لئے تیار ہوں اس کے لئے جان دینے کے لئے تیار ہوں۔دعائیں کرتے رہو پھر مبلغ کے لئے یہ بات ضروری ہے کہ وہ دعائیں کرتا رہے کہ الہی ! میں ان لوگوں کو ناراستی کی طرف نہ لے جاؤں۔جب سے خلافت قائم ہوئی ہے میں یہی دعا مانگتا ہوں۔ایک امام کی نسبت ایک لطیفہ ہے کہ بارش کا دن تھا ، ایک لڑکا بھاگتا چلا جارہا تھا۔امام صاحب نے کہا، دیکھنالڑ کے کہیں گر نہ پڑنا۔لڑ کا ہوشیار تھا، بولا آپ میرے گرنے کی فکر نہ کریں میں گرا تو اکیلاگروں گا۔آپ اپنے گرنے کی فکر کیجئے اگر آپ گرے تو ایک جماعت گرے گی۔امام صاحب کہتے ہیں کہ مجھے اس بات کا بہت ہی اثر ہوا۔تو مبلغ کو اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ اگر وہ گرے گا تو اس کے ساتھ اس کا حلقہ بھی گر جائے گا۔دیکھو مولوی گرے مسلمان بھی گر گئے۔یہ دو باتیں ہر وقت مد نظر رہنی چاہئیں۔اول کوئی ایسی بات نہ کرے جس پر پہلے سوچا اور غور نہ کیا ہو۔دوم دعا کرتا رہے کہ الہی میں جو کہوں وہ ہدایت پر لے جانے والا ہو۔اگر غلط ہو تو الہی ان کو اس راہ پر نہ چلا۔اور اگر یہ درست ہے تو الہی توفیق دے کہ یہ لوگ اس راہ پر چلیں۔