حضرت سید بیگم صاحبہ ’نانی امّاں‘ — Page 14
سیرت حضرت سید بیگم، نانی اماں جان صاحبہ 14 میں ہوئی۔اُس وقت آپ کے والد میر ناصر نواب صاحب کو کئی مشکلات کا سامنا تھا اور نوکری بھی نہ تھی۔آپ کی پیدائش بہت سی برکات کا موجب ہوئی تنگی حالات فراخی میں بدل گئے۔ناکامیاں کامیابیوں میں تبدیل ہو گئیں اور خدا کے فضلوں کے دروازے حضرت سید بیگم صاحبہ اور اُن کے شوہر میر ناصر نواب صاحب پر کھل گئے۔(9) حضرت سید بیگم صاحبہ کو اللہ تعالیٰ نے اولاد میں حضرت سیّدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ کے علاوہ دو بیٹوں حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب اور حضرت میر محمد اسحق صاحب سے بھی نوازا۔آپ کو اپنی اولا د سے بہت محبت تھی۔ذیل کے ایک واقعہ سے ہمیں اس کا پتہ چلتا ہے۔ایک دفعہ حضرت میر محمد الحق صاحب سخت بیمار ہو گئے۔ان ایام میں حضرت میر ناصر نواب صاحب حضرت شیخ عرفانی کبیر سے کچھ ناراض ہو گئے تھے اور دونوں الگ الگ تھے۔کسی نے اس واقعہ کا ذکر نانی اماں سے کر دیا۔ان کو خیال گزرا کہ کہیں شیخ عرفانی کبیر صاحب نے کوئی بددعا ہی نہ کر دی ہو جس کی وجہ سے میرا لخت جگر میرا بچہ بیمار ہو گیا اور اس قدر تکلیف اُٹھا رہا ہے۔وہ فوراً شیخ صاحب کے مکان پر گئیں اور گلی میں ڈیوڑھی کے دروازے پر جا کر بیٹھ گئیں اور کسی کو کہا شیخ صاحب کو اطلاع کر دو کہ نانی اماں آئی ہیں۔