نماز مع ترجمہ اور ضروری مسائل — Page 5
5 کا بعد اور دوری بھی لمبی۔پس جو شخص خدا سے ملنا چاہتا ہے اور اس کے دربار میں پہنچنے کی خواہش رکھتا ہے اس کے واسطے نماز ایک گاڑی ہے جس پر سوار ہو کر وہ جلد تر پہنچ سکتا ہے اور جس نے نماز ترک کر دی وہ کیا پہنچے گا۔" نماز سے بڑھ کر اور کوئی وظیفہ نہیں ہے کیونکہ اس میں حمد الہی ہے۔استغفار ہے اور درود شریف۔تمام وظائف اور اور اد کا مجموعہ یہی نماز ہے اور اس سے ہر ایک قسم کے غم وہم دور ہوتے ہیں اور مشکلات حل ہوتے ہیں۔نماز ہی کوسنوار سنوار کر پڑھنا چاہئے اور سمجھ سمجھ کر پڑھو اور مسنون دعاؤں کے بعد اپنے لئے اپنی زبان میں بھی دعائیں کرو اس سے تمہیں اطمینان قلب حاصل ہو گا اور سب مشکلات خدا تعالیٰ چاہے گا تو اسی سے حل ہو جائیں گی۔نما زیاد الہی کا ذریعہ ہے۔اس لئے فرمایا ہے اَقِمِ الصَّلوةَ لِذِكْرِى (طه: ۱۵)۲ نماز کی شرائط جس طرح ایک اہم اور عظیم الشان کام کو شروع کرنے سے پہلے مناسب تیاری کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح نماز جیسی عظیم الشان عبادت کو صحیح اور مکمل طور پر ادا کرنے کے لئے اس سے پہلے چند باتوں کا التزام کرنا ضروری ہے۔ان باتوں کو شرائط نماز کہتے ہیں جو تعداد میں پانچ ہیں۔ا۔وقت ۲۔طہارت ۳۔ستر عورت ۴۔قبلہ ۵۔نیت الحکم نمبر ۱۲ جلد۷ مورخه ۳۱ مارچ ۱۹۰۳ صفحه ۸ الحکم نمبر ۲۰ جلد ۷ مورخہ ۳۱ مئی ۱۹۰۳ء صفحه ۹ نماز کی پہلی شرط۔وقت اوقات نماز کی حکمت نماز کی اصل غرض یہ ہے کہ تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد خدائے حی و قیوم کا نام لیا جائے کیونکہ جس طرح گرمی کے موسم میں تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد انسان ایک ایک اور دو دو گھونٹ پانی پیتا رہتا ہے تا کہ اس کا گلا تر رہے اور اس کے جسم کو تراوت پہنچتی رہے اسی طرح کفر اور بے ایمانی کی عام بازاری میں انسان کی روح کو حلاوت اور تر و تازگی پہنچانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد نماز مقرر کی ہے تا کہ گناہوں کی گرمی اس کی روح کو جھلس نہ دے اور مسموم ماحول اس کی روحانی طاقتوں کو مضمحل نہ کر دے۔خوشی ہو یا غمی ہر حالت میں انسان کو مختلف اوقات کی نماز کے ذریعہ خدا تعالیٰ کی طرف متوجہ ہونے کا موقع ملتا رہتا ہے۔جب دنیا کا فریب حسن اسے اپنی طرف کھینچتا ہے تو نماز کی مدد سے وہ خدا کی طرف جھکتا ہے۔نیز نماز کے لئے وقت مقرر کرنے سے اجتماعیت کی روح کو زندہ رکھنے کا موقع ملتا ہے کیونکہ اس طرح سے لوگ بآسانی جمع ہو سکتے ہیں۔پھر وقت کی یہ تعیین خود انسان کی اپنی مرضی پر نہ چھوڑنے میں یہ حکمت ہے کہ تا انسان کو بر وقت نماز ادا کرنے کی فکر رہے اور اس کی ذمہ داری کا احساس بیدار رہے۔اگر وقت کی تعیین خود انسان پر چھوڑ دی جاتی تو وقت کی پابندی کی اہمیت جاتی رہتی اور اس میں ستی ظاہر ہونے لگتی۔چونکہ قلبی کیفیات بدلتی رہتی ہیں اس لئے ایک وقت میں دیر تک عبادت میں مشغول رکھنے کی بجائے مختلف اوقات میں عبادت کا حکم دیا گیا کیونکہ لمبے وقت