نماز مع ترجمہ اور ضروری مسائل

by Other Authors

Page 23 of 32

نماز مع ترجمہ اور ضروری مسائل — Page 23

42 41 بھی گمراہ نہیں کر سکتا اور جس کی گمراہی کا وہ اعلان کرے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا اور ہم گواہی دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور ہم گواہی دیتے ہیں کہ محمد ( رسول اللہ ﷺ ) جس نے یہ درس تو حید ہمیں دیا اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔اے اللہ کے بندو! تم پر اللہ رحم کرے۔وہ عدل اور انصاف کا حکم دیتا ہے اور قریبی رشتہ داروں سے اچھے سلوک کا ارشاد فرماتا ہے اور بے حیائی ، بری باتوں اور باغیانہ خیالات سے روکتا ہے۔وہ تمہیں اس بناء پر نصیحت کرتا ہے کہ تم میں نصیحت قبول کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔اللہ تعالیٰ کو یاد کرو۔وہ تمہیں یاد کرے گا۔اسے بلاؤ وہ تمہیں جواب دے گا۔اللہ تعالیٰ کا یاد کرنا سب سے بڑی نعمت ہے۔نماز عیدین ماہ رمضان گزرنے پر یکم شوال کو افطار کرنے اور روزوں کی برکات حاصل کرنے کی توفیق پانے کی خوشی میں عید الفطر اور دسویں ذوالحجہ کو حج کی برکات میسر آنے کی خوشی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کی یاد میں عید الاضحیہ منائی جاتی ہے۔نماز عید کا اجتماع ایک رنگ میں مسلمانوں کی ثقافت اور دینی عظمت کا مظہر ہوتا ہے۔اس لئے اس میں مرد، عورت، بچے بھی شامل ہیں۔عید کے دن نہا کر عمدہ لباس پہنا جائے۔خوشبو لگائی جائے۔اچھا کھانا تیار کیا جائے۔عید الفطر ہو تو عید کی نماز کے لئے جانے سے پیشتر مساکین اور غرباء کے لئے فطرانہ ادا کیا جائے خود بھی کچھ کھا پی کر عید کی نماز کے لئے جائے۔لیکن اگر قربانیوں کی عید ہو تو نماز سے فارغ ہونے کے بعد واپس آ کر کھانا زیادہ بہتر ہے۔دونوں عیدوں پر عید کی دورکعت نماز کسی کھلے میدان میں یا عید گاہ میں زوال سے پہلے پڑھی جاتی ہے۔عید گاہ میں جانے اور واپس آنے کے راستے جدا جدا ہوں تو زیادہ ثواب ہوگا۔عید کی نماز با جماعت ہی پڑھی جاسکتی ہے۔اکیلئے جائز نہیں۔نماز عید کی پہلی رکعت میں ثناء کے بعد اور تعوذ سے پہلے امام سات تکبیریں بلند آواز سے کہے اور مقتدی آہستہ آواز سے کہیں۔امام اور مقتدی دونوں تکبیرات کہتے ہوئے ہاتھ کانوں تک اٹھا ئیں اور کھلے چھوڑ دیں۔تکبیرات کے بعد سورۃ فاتحہ اور قرآن کریم کا کوئی حصہ بالجبر پڑھ کر پہلی رکعت مکمل کی جائے۔پھر دوسری رکعت کے لئے کھڑے ہو کر پہلے کی طرح پانچ تکبیریں کہی جائیں دوسری رکعت مکمل ہونے پر تشہد ، درود شریف اور مسنون دعا کے بعد سلام پھیرا جائے۔اس کے بعد امام خطبہ پڑھے۔جمعہ کی طرح عید کے بھی دو خطبے ہوتے ہیں۔تاہم جمعہ کا خطبہ نماز سے پہلے اور عید کا نماز کے بعد اگر عید کی نماز پہلے دن زوال سے پہلے نہ پڑھی جا سکے تو عید الفطر دوسرے دن اور عیدالاضحیہ تیسرے دن تک زوال سے پہلے پڑھی جاسکتی ہے۔دونوں عیدوں کی نماز ایک جیسی ہے۔فرق صرف یہ ہے کہ بڑی عید کی نماز ختم ہونے کے بعد امام اور مقتدی کم از کم تین بار بلند آواز سے تکبیرات کہیں۔اسی طرح نویں ذوالحجہ کی فجر سے تیرہویں کی عصر تک با جماعت فرض نماز کے بعد با آواز بلند یہی تکبیرات کہی جائیں۔یہ تکبیرات مندرجہ ذیل ہیں۔اللهُ اَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ۔لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ۔وَاللهُ أَكْبَرُ۔اَللهُ أَكْبَرُ۔وَلِلَّهِ الْحَمْدُ۔ترجمہ : اللہ سب سے بڑا ہے۔اللہ سب سے بڑا ہے۔اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور اللہ سب سے بڑا ہے۔اللہ سب سے بڑا ہے اور اللہ تعالیٰ کے لئے