نماز مع ترجمہ اور ضروری مسائل

by Other Authors

Page 24 of 32

نماز مع ترجمہ اور ضروری مسائل — Page 24

44 43 سب تعریفیں ہیں۔نوٹ :۔عیدین کی نماز کے لئے آتے اور واپس جاتے ہوئے بھی یہی تکبیرات بلند آواز سے کہنا مسنون ہے۔نماز جمع بیماری۔سفر۔بارش۔طوفان با دو باراں۔سخت کیچڑ اور سخت اندھیرے میں جبکہ مسجد میں بار بار آنے جانے کی دقت کا سامنا ہو۔اس طرح کسی اہم دینی اجتماعی کام کی صورت میں ظہر اور عصر۔مغرب اور عشاء کی نمازوں کو جمع کیا جا سکتا ہے۔جماعت سے بھی اورا کیلے بھی۔جمع تقدیم مثلاً ظہر کے وقت ظہر اور عصر اور جمع تاخیر مثلاً عصر کے وقت میں ظہر و عصر دونوں صورتیں جائز ہیں۔باجماعت نمازیں جمع کرنی ہوں تو ایک اذان کافی ہے۔البتہ اقامت ہر ایک کے لئے الگ الگ ہو۔بصورت جمع سنتوں کا پڑھنا بھی ضروری نہیں رہتا۔با جماعت نمازیں جمع کرنے کی صورت میں اگر امام پہلی نماز پڑھانے کے بعد دوسری نماز پڑھا رہا ہوتو جو شخص بعد میں مسجد میں آئے اگر اسے معلوم ہو جائے کہ امام کون سی نماز پڑھ رہا ہے۔تو پھر وہ پہلے اس نماز کو ادا کرے جو امام پڑھا چکا ہے۔اس کے بعد امام کے ساتھ شامل ہو۔لیکن اگر اسے معلوم نہیں ہو سکا کہ کون سی نماز ہو رہی ہے اور وہ یہ سمجھ کر شامل ہو جاتا ہے کہ امام کی یہ پہلی نماز ہے تو امام کی نیت کے مطابق اس کی نماز ہو جائے گی اور پھر بعد میں وہ پہلی نماز پڑھ لے۔بہر حال علم ہو جانے کی صورت میں نمازوں کی ترتیب کو قائم رکھنا ضروری ہے۔خواہ جماعت ملے یا نہ ملے۔نماز سفر شروع میں ظہر عصر اور عشاء کی نمازیں فجر کی طرح دو دو رکعتیں تھیں لیکن بعد میں سفر کی حالت میں تو یہ دو دورکعتیں ہی رہیں لیکن اقامت کی حالت میں دوگنی یعنی چار چار رکعت کر دی گئیں۔اس تبدیلی کی بناء پر مسافر کا کسی جگہ پندرہ دن سے کم ٹھہرنے کا ارادہ ہو تو ظہر۔عصر اور عشاء کی نماز دو دو رکعت پڑھے گا اور مقیم چار چار رکعت پڑھے گا۔مغرب اور فجر کی رکعتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔اگر انسان کسی ایسے عزیز کے گھر میں مقیم ہو جسے وہ اپنا ہی گھر سمجھتا ہے جیسے والدین کا گھر ، سسرال کا گھر یا مذہبی مرکز مثلاً مکہ ، مدینہ ، قادیان اور ربوہ وغیرہ تو قیام کے دوران میں چاہے تو اس رخصت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دو رکعت پڑھے اور چاہے تو پوری نماز یعنی چار رکعت پڑھے۔سفر میں وتر اور فجر کی دوسنتوں کے علاوہ باقی سنن معاف ہو جاتی ہیں۔پڑھے یا نہ پڑھے یہ انسان کی مرضی پر منحصر ہے۔سفر میں نمازیں جمع کرنا بھی جائز ہے۔اگر امام مقیم ہو تو مسافر مقتدی اس کی اتباع میں پوری نماز پڑھے گا اور اگر امام مسافر ہو تو امام دورکعت پڑھے گا اور اس کے مقیم مقتدی امام کے سلام پھیر نے کے بعد کھڑے ہو کر بقیہ رکعتیں پوری کر کے سلام پھیریں گے ان بقیہ دو رکعتوں میں وہ صرف سورۃ فاتحہ پڑھیں گے۔وتر وتر طاق کو کہتے ہیں اور اس سے مراد یہ ہے کہ عشاء کی نماز سے لے کر