نماز مع ترجمہ اور ضروری مسائل — Page 18
32 31 مکروہات نماز : یعنی ایسی باتیں جن کا نماز میں کرنا نا پسندیدہ ہے اور وہ یہ ہیں:۔نماز پڑھتے وقت ہاتھ آستین کے اندر رکھنا۔گنج اکھیوں سے ادھر ادھر دیکھنا یا آسمان کی طرف دیکھنا۔آنکھیں بند رکھنا۔ننگے سر نماز پڑھنا۔سجدہ میں پاؤں کی انگلیوں کا رخ بلا عذر قبلہ کی طرف نہ کرنا۔بھوک لگی ہو اور دستر خوان بچھ گیا ہو تو اس حالت میں نماز پڑھنا۔بیت الخلاء جانے کی حاجت کے باوجود نماز پڑھتے رہنا۔قبرستان میں قبر کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنا۔ایسا تنگ لباس پہننا کہ جس میں آسانی سے رکوع اور سجدہ نہ ہو سکے۔ایک ٹانگ پر کھڑے ہونا اور دونوں پاؤں پر یکساں بوجھ نہ ڈالنا۔ناصاف ماحول میں نماز پڑھنا مثلاً بکریوں کے باڑہ۔اصطبل یا بازار میں جہاں شور و غل ہو۔کھلی جگہ میں سترہ رکھے بغیر نماز پڑھنا۔کسی کے سلام کے جواب میں سر ہلانا۔کھانے کے بعد کلی کئے بغیر نماز پڑھنا۔سجدہ میں ہاتھ سر کے نیچے رکھنا۔سجدہ میں پیٹ ران سے لگانا۔سجدہ میں باز وزمین پر پھیلا نا۔رکوع اور سجدہ میں قرآنی آیت پڑھنا اور نماز با جماعت کی صورت میں امام سے پہلے حرکت کرنا۔نمازی کے سامنے سے گزرنے والا گناہ گار ہے۔لیکن اس سے نماز پڑھنے والوں کی نماز میں خرابی پیدا نہیں ہوتی۔نمازیوں کے سامنے سے ایک صف کا فاصلہ چھوڑ کر انسان گزرسکتا ہے۔مبطلات نماز : یعنی ایسی باتیں جن سے نماز ٹوٹ جاتی ہے اور نماز کا دوبارہ پڑھنا ضروری ہو جاتا ہے۔یہ باتیں مندرجہ ذیل ہیں۔نماز کی کسی شرط کو چھوڑ دینا یا دوران نماز اس کا باقی نہ رہنا مثلاً وضو کا ٹوٹ جانا یا ستر کا کھل جانا۔نماز کے کسی رکن یا واجب حصہ کو بلا عذر جان بوجھ کر چھوڑ دینا۔نماز میں عمداً کسی سے بات کرنا یا زبان سے سلام کا جواب دینا یا کھل کھلا کر ہنس پڑنا۔منہ موڑ کر ادھر ادھر دیکھنا نماز میں کھانا پینا۔بلاضرورت حرکت کثیر کرنا۔سجدہ سہو نماز میں اگر کسی سے ایسی غلطی سرزد ہو جس سے نماز میں شدید نقص پڑ جائے۔مثلاً سہواً فرض کی ترتیب بدل جائے یا کوئی واجب جیسے درمیانی قعدہ رہ جائے یار کعتوں کی تعداد میں شک پڑ جائے تو اس غلطی کے تدارک کے لئے روزائد سجدے کرنے ضروری ہوتے ہیں۔یہ سجدے نماز کے آخری قعدہ میں تشہد ، درود شریف اور دعاؤں کے بعد کئے جاتے ہیں جب یہ آخری دعا ختم ہو جائے تو تکبیر کہہ کر دو سجدے کئے جائیں اور ان میں تسبیحات سجدہ پڑھی جائیں۔اس کے بعد بیٹھ کر سلام پھیرا جائے۔سجدہ سہو کرنے سے دراصل اس اقرار کی طرف اشارہ ہوتا ہے کہ ہر قسم کے نقص اور بھول چوک سے صرف رب العزت کی ذات پاک ہے۔انسان کمزور ہے۔اس کی اس غلطی سے درگز رفرمایا جائے اور اس کے بدنتائج سے اسے بچایا جائے۔امام اگر ایسی غلطی کرے جس سے سجدہ سہوضروری ہو جاتا ہے تو اس کے ساتھ مقتدیوں کے لئے بھی سجدہ سہو کرنا ضروری ہوگا۔لیکن اگر صرف مقندی سے ایسی کوئی غلطی ہو تو امام کی اتباع کی وجہ سے اس کی یہ غلطی قابل مواخذہ نہیں ہوگی اور اس کے لئے سجدہ سہو واجب نہیں ہوگا۔اگر رکعتوں کی تعداد یا کسی اور رکن کے ادا کرنے میں شبہ پڑ جائے تو یقین پر بنیا د رکھی جائے۔مثلاً اگر یہ شبہ ہو کہ میں نے تین رکعت پڑھی ہیں یا چار اور کوئی فیصلہ نہ ہو سکے تو یہ سجھا جانا چاہئے کہ تین رکعتیں پڑھی ہیں اور چوتھی رہتی ہے۔