نماز مع ترجمہ اور ضروری مسائل — Page 17
30 29 29 میں اس کو ادا کر کے سجدہ سہو کر لینے سے نماز صحیح ہو جائے گی۔فرائض جن کو ارکان نماز بھی کہتے ہیں مندرجہ ذیل ہیں:۔۱۔تکبیر تحریمہ ۲۔قیام ۳۔قرآت قرآن کریم ۴۔رکوع ۵۔ہر رکعت میں دو سجد ۶۷۔آخری قعدہ ۷۔سلام ہر ایک کی تفصیل او پر طریق نماز میں بیان ہو چکی ہے۔واجبات نماز : یعنی وہ کام جن کا کرنا ضروری ہے اگر عمداً ان میں سے کوئی نہ کیا جائے تو نماز صحیح نہیں ہوگی۔البتہ اگر سہوا کوئی کام رہ جائے تو سجدہ سہو کر لینے سے یہ کمی پوری ہو جائے گی۔یہ واجبات مندرجہ ذیل ہیں:۔سورۃ فاتحہ پڑھنا۔فرضوں کی پہلی دورکعتوں میں سورۃ فاتحہ کے بعد قرآن کریم کا اور حصہ پڑھنا۔رکوع کے بعد سیدھے کھڑا ہونا جسے قومہ کہتے ہیں۔دو سجدوں کے درمیان بیٹھنا جسے جلسہ کہتے ہیں۔دو رکعت پڑھنے کے بعد بیٹھنا جسے درمیانی قعدہ کہتے ہیں۔قعدہ میں تشہد یعنی التحیات پڑھنا۔ہر فرض کو ٹھہر ٹھہر کر اطمینان سے ادا کرنا جسے تعدیل ارکان کہتے ہیں۔فرائض کو مقررہ ترتیب کے مطابق ادا کرنا۔نماز با جماعت کی صورت میں ظہر اور عصر کی نماز میں آہستہ اور مغرب عشاء کی پہلی دو رکعتوں اور فجر ، جمعہ اور عیدین کی ساری رکعتوں میں بلند آواز سے قرآن مجید پڑھنا۔سنن نماز : یعنی نماز کے وہ حصے جن کے کرنے سے ثواب ملتا ہے۔اگر جان بوجھ کر ان میں سے کوئی نہ کیا جائے تو گناہ ہو گا۔البتہ سہوارہ جائے تو نہ گناہ ہے اور نہ سجدہ سہو ضروری ہے۔یہ سنن مندرجہ ذیل ہیں۔تکبیر تحریمہ کہتے ہوئے ہاتھ کانوں تک اٹھانا۔ہاتھ باندھنا۔ثناء پڑھنا۔پہلی رکعت میں سورۃ فاتحہ کی قرآت سے پہلے اَعُوذُ باللہ پڑھنا۔سورۃ فاتحہ کے ختم ہونے پر آمین کہنا۔رکوع میں جاتے ہوئے تکبیر کہنا رکوع میں کم از کم تین بار تسبیح کہنا۔رکوع سے اٹھتے ہوئے سمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، اس کے بعد ا گرا کیلا نماز پڑھ رہا ہے تو ساتھ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ کہنا۔اور اگر مقتدی ہے تو سمیع کی بجائے اس کے لئے یہ تحمید کہنا سنت ہے۔سجدہ میں جاتے اور اٹھتے ہوئے تکبیر کہنا سجدہ میں کم از کم تین بار تسبیح کہنا۔دو سجدوں کے درمیان دعائے ماثورہ پڑھنا۔تشہد میں ذکر توحید ) یعنی اَشْهَدُ اَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللہ کہنے کے وقت ) پر شہادت کی انگلی اٹھانا۔آخری قعدہ میں درود شریف اور دوسری دعائیں پڑھنا۔فرض نماز کی پہلی دو رکعتوں کے بعد پچھلی ایک یا دو رکعتوں میں سورۃ فاتحہ پڑھنا۔نماز باجماعت کی صورت میں امام کے لئے تکبیر سمیع اور تسلیم بلند آواز سے کہنا۔سلام کہتے ہوئے منہ دائیں اور بائیں طرف پھیرنا۔مستحبات نماز : یعنی نماز کے وہ حصے جن کے کرنے سے ثواب ہوتا ہے۔اور اگر ان میں سے کوئی رہ جائے تو کوئی گناہ نہیں۔یہ مستحبات مندرجہ ذیل ہیں۔نظر سجدہ کی جگہ مرکوز رکھنا۔رکوع میں ہاتھ گھٹنوں پر اور انگلیاں پھیلا کر رکھنا۔رکوع کے بعد کھڑے ہونے کے وقت ہاتھ کھلے چھوڑنا۔سجدے بجالاتے وقت اس طرح جھکنا کہ پہلے گھٹنے پھر ہاتھ پھر ناک اور پھر پیشانی زمین پر لگے۔رکعت کے لئے کھڑے ہوتے وقت بغیر سہارے کے اٹھنا۔جلسہ اور قعدہ میں ہاتھ گھٹنوں کے قریب اس طرح رکھنا کہ انگلیاں قبلہ رخ ہوں۔بائیں پاؤں پر بیٹھنا اور دائیں پاؤں کو اس طرح کھڑا رکھنا کہ اس کی انگلیاں قبلہ رخ ہوں۔سورۃ فاتحہ کے بعد پہلی رکعت میں بڑی اور دوسری رکعت میں نسبتا چھوٹی سورۃ پڑھنا۔مقتدی کے لئے آمین بلند آواز اور حمید آہستہ آواز میں کہنا۔