نماز مع ترجمہ اور ضروری مسائل — Page 27
49 49 نماز استخاره ہرا ہم دینی و دنیوی کام شروع کرنے سے پہلے اس کے بابرکت ہونے اور کامیابی کے ساتھ اس سے عہدہ برآ ہونے کے لئے دعائے خیر کی جائے۔طلب خیر کی مناسبت سے اسے صلوۃ الاستخارہ کہتے ہیں۔رات سونے سے پہلے دو رکعت نفل پڑھے جائیں۔سورۃ فاتحہ کے علاوہ پہلی رکعت میں سورۃ الکافرون اور دوسری میں سورۃ الاخلاص پڑھنا مسنون ہے۔قعدہ میں تشہد ، درود شریف اور ادعیہ مسنونہ کے بعد بجز و انکسار کے ساتھ مندرجہ ذیل دعا پڑھنا مسنون ہے۔اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيْرُكَ بِعِلْمِكَ وَاسْتَقْدِرُكَ بقُدْرَتِكَ وَاَسْئَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيمِ فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ وَ تَعْلَمُ وَ لَا أَعْلَمُ وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ۔اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا لَأَمْرَ خَيْرٌ لِي فِي دِينِي وَمَعِيشَتِى ( مَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِى فَاقْدِرُهُ لِى فَيَسِرُهُ لِى ثُمَّ بَارِكْ لِي فِيهِ وَإِنْ كُنتَ تَعْلَمُ اَنَّ هذا الا مُرَ شَرٌّ لِي فِي دِينِي وَ مَعِيشَتِي مَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِى فَاصْرِفُهُ عَنِّى وَاصْرِفْنِي عَنْهُ وَاقْدِرُ لِيَ الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ ثُمَّ ارْضِنِي بِهِ ترجمہ :۔اے اللہ تعالیٰ میں بھلائی چاہتا ہوں جو تیرے علم میں ہے اور قدرت چاہتا ہوں جو تیری توفیق سے ہی مل سکتی ہے اور مانگتا ہوں تیرے بڑے لے بخاری کتاب الدعوات باب الدعاء عند الاستخارہ۔ترمذی جلد اص ۶۳ شرح السنۃ جلد ۴ ص ۱۵۳ فضلوں کو کیونکہ تو طاقت رکھتا ہے اور میں طاقت نہیں رکھتا اور تو جانتا ہے اور میں نہیں جانتا اور تو تمام غیب کی باتوں کو جاننے والا ہے۔اے اللہ اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام جو مجھے درپیش ہے ( کام کا نام بھی لے سکتا ہے) میرے لئے دین اور دنیا میں اور انجام کے لحاظ سے بہتر ہے تو اس کو میرے واسطے مقدر فرما اور اس کو میرے لئے آسان کر دے۔پھر میرے لئے اس میں برکت ڈال دے۔اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے دین اور میری دنیا کے لئے اور انجام کے لحاظ سے مضر ہے تو اس کو مجھ سے دور ہٹا دے اور مجھ کو اس سے دور رکھ اور میرے لئے بھلائی مقدر فرما جہاں کہیں وہ ہو اور پھر اس کے بارہ میں مجھے تسکین و رضا عطا فرما۔نماز اشراق (یعنی چاشت کی نماز ) نیزہ بھر سورج نکل آنے کے بعد دو رکعت نماز پڑھنا۔اس کے بعد جب دھوپ اچھی طرح نکل آئے اور گرمی کچھ بڑھ جائے تو چار رکعت یا آٹھ رکعت پڑھنا بعض روایات سے ثابت ہے۔پہلی دو رکعت کو صلوۃ الاشراق اور اس کے بعد کی نماز کو صلوۃ الضحی کہا گیا ہے۔صلواة الأوبين بھی اسی نماز کا نام ہے یا بہر حال یہ نفل نماز پڑھنے کا ثواب بعض احادیث سے ثابت ہے۔ا کشف الغمہ جلد اص ۳۱۳ ، ۲ نیل اوطار جلد ۳ ص ۶۶ لیکن بعض احادیث میں نماز مغرب وعشاء کے درمیان پڑھی جانے والی ۶ رکعت نفل کو صلوۃ الا و بین کہا گیا ہے۔عن ابن عباس قال بالذين يصلون المغرب الى العشاء و هِىَ صلواة الاوبين شرح السنہ جلد ۳ ص ۴۷۴ بين 50 50