نماز مع ترجمہ اور ضروری مسائل

by Other Authors

Page 26 of 32

نماز مع ترجمہ اور ضروری مسائل — Page 26

48 47 یہ سب سے مشہور دعا ہے۔۔٣ اَللَّهُمَّ إِنَّا نَسْتَعِيْنُكَ وَنَسْتَغْفِرُكَ وَنُثْنِي عَلَيْكَ الْخَيْرَ وَلَا نَكْفُرُكَ وَنَخْلَعُ وَنَتْرُكُ مَنْ يَفْجُرُكَ اللَّهُمَّ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ لَكَ نُصَلِّي وَ نَسْجُدُ وَإِلَيْكَ نَسْعَى وَنَحْفِدُ وَ نَرْجُوا رَحْمَتَكَ وَ نَخْشَى عَذَابَكَ إِنَّ عَذَابَكَ بِالْكُفَّارِ مُلْحِقِّ۔ترجمہ: اے اللہ ہم تجھ سے مدد مانگتے ہیں اور تیری بخشش چاہتے ہیں اور ہم تجھ پر ایمان لاتے ہیں اور تجھ پر بھروسہ رکھتے ہیں اور ہم تیری خوبیاں بیان کرتے ہیں اور تیرا شکر کرتے ہیں اور نا شکری نہیں کرتے اور ہم قطع تعلق کرتے اور ترک کرتے ہیں اس کو جو تیری نافرمانی کرے۔اے اللہ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تیرے لئے ہی ہم نماز پڑھتے ہیں اور سجدہ کرتے ہیں اور تیری طرف ہم دوڑتے ہیں اور کھڑے ہوتے ہیں اور ہم تیری رحمت کی امید رکھتے ہیں اور تیرے عذاب سے ڈرتے ہیں۔یقینا تیرا عذاب کافروں کو پہنچنے والا۔وتروں کا وقت نماز عشاء سے لے کر طلوع فجر تک رہتا ہے تاہم سونے اور رات کے آخری حصہ میں اٹھ کر تہجد کی نماز پڑھنے کے بعد وتر ادا کرنا افضل ہے۔اگر رات کے آخری حصے میں اٹھنے کی عادت نہ ہو۔تو عشاء کے بعد ہی وتر پڑھ لینے بہتر ہیں۔وتر اکیلے پڑھے جاتے ہیں۔البتہ رمضان المبارک میں وتر کی نماز تراویح کی طرح باجماعت پڑھنا بھی جائز ہے۔مصنف ابن ابی شیبہ حدیث ۷۰۲۹۔والا ہے۔نماز تہجد عشاء کی نماز کے بعد جلدی سو جانا اور پھر پچھلی رات اُٹھ کر عبادت کرنا اور نماز پڑھنا باعث برکت ہے۔رات کا آخری حصہ بالخصوص قبولیت دعا اور تقرب الی اللہ کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔کیونکہ اس وقت انسان اپنی میٹھی نیند اور آرام دہ بستر کو چھوڑ کر اپنے مولائے حقیقی کے حضور سجدہ ریز ہوتا ہے۔تہجد کی نماز آٹھ رکعت ہے۔آنحضرت ﷺ نے ہمیشہ یہ نماز پڑھی ہے۔آپ تہجد کی نماز بالعموم دو دورکعت کر کے پڑھتے تھے۔لمبی قراءت اور لمبے لمبے رکوع و سجود کے علاوہ خوب دعائیں کرتے۔پھر آخر میں تین رکعت وتر ادا فرماتے۔اس طرح سے آپ بالعموم رات کے پچھلے حصہ میں کل گیارہ رکعت نماز پڑھا کرتے تھے۔نماز تراویح نماز تراویح دراصل تہجد ہی کی نماز ہے۔صرف رمضان المبارک میں اس کے فائدہ کو عام کرنے کے لئے رات کے پہلے حصہ میں یعنی عشاء کی نماز کے معا بعد عام لوگوں کو پڑھنے کی اجازت دی گئی۔آنحضرت نے بھی ایک رمضان کی تین راتوں کو صحابہ کو رات کے مختلف حصوں میں نوافل باجماعت پڑھائے۔اس سے سنت اخذ کرتے ہوئے تراویح کا رواج حضرت عمرؓ کے زمانہ میں پڑا۔رمضان میں بھی رات کے آخری حصہ میں یہ نماز ادا کرنا افضل ہے۔نماز تراویح میں قرآن کریم سنانے کا طریق بھی صحابہؓ کے زمانہ سے چلا آیا ہے۔تراویح کی نماز آٹھ رکعت ہے۔تاہم اگر کوئی چاہے تو ہیں یا اس سے زیادہ رکعت بھی پڑھ سکتا ہے۔