نماز مع ترجمہ اور ضروری مسائل

by Other Authors

Page 22 of 32

نماز مع ترجمہ اور ضروری مسائل — Page 22

40 39 دن ہے۔اس بابرکت اجتماع کے ذریعہ حلقہ تعارف وسیع ہوتا ہے۔اجتماعی مقاصد کے متعلق سوچنے اور باہمی تعاون کے مواقع میسر آتے ہیں۔مساوات اسلامی کے مظاہرہ کا موقع ملتا ہے۔وعظ و تذکیرسن کر رضائے الہی کی راہوں پر چلنے کی توفیق ملتی ہے۔جمعہ کی نماز کا وقت وہی ہے جو ظہر کی نماز کا ہے۔البتہ امام وقت کسی اشد ضروری سفر یا جنگی انداز کی اہم مصروفیت کے پیش نظر چاشت کے بعد اور زوال سے قبل بھی جمعہ پڑھا سکتا ہے۔لا نماز جمعہ کے لئے جماعت شرط ہے۔یہ نماز تمام بالغ ، تندرست مسلمانوں پر واجب ہے۔البتہ معذور، نابینا، پانچ ، بیمار، مسافر نیز عورت کے لئے واجب نہیں۔ہاں اگر یہ شامل ہو جائیں تو ان کی نماز جمعہ ہو جائے گی ورنہ وہ ظہر کی نماز پڑھیں۔نماز جمعہ کا طریق : سورج ڈھلنے کے ساتھ ہی پہلی اذان دی جائے۔امام جب خطبہ پڑھنے کے لئے آئے تو دوسری اذان کہی جائے۔پہلے خطبہ میں تشہد اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حسب موقع ضروری نصائح کی جائیں۔لوگوں کو ان کے فرائض کی طرف توجہ دلائی جائے۔اس کے بعد کچھ دیر کے لئے خطیب خاموش ہو کر بیٹھ جائے۔پھر کھڑے ہو کر دوسرا خطبہ پڑھے۔خطبہ توجہ سے سننا چاہئے۔اس کے دوران بولنا جائز نہیں۔ضرورت پر ہاتھ یا انگلی کے اشارے سے متوجہ کیا جائے۔البتہ امام اگر کوئی بات پوچھے تو جواب دینا چاہئے۔خطبہ ثانیہ کے بعدا قامت کہہ کر دو رکعت نماز باجماعت ادا کی جائے۔نماز میں قرآت بالجبر ہو۔جمعہ کی نماز سے پہلے اور بعد میں چار چار رکعت نماز سنت پڑھی جائے۔بعد میں چار کی بجائے دو رکعت بھی پڑھی جا سکتی ہیں۔دوران خطبہ ے مسند الشافعی جلد اص ۵۲-۲- ابوداؤ د باب الصلوۃ یوم الجمعه قبل الزوال ۳ - شرح السنتہ جلد ۳ ص ۳۲۹ پہنچنے والے نمازی ہلکی پھلکی دو رکعت نما ز سنت ادا کرے یا خطبہ کے دوران پہنچنے والے شخص کے لئے ضروری ہے کہ وہ صفوں کو پھلانگ کر آگے جانے کی کوشش نہ کرے۔جمعہ کی نماز کی کوئی قضاء نہیں یعنی جو نماز جمعہ نہیں پڑھ سکا تو وہ نماز ظہر ادا کرے۔خطبہ ثانیہ کے مسنون الفاظ الْحَمْدُ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِيْنُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ وَ نُؤْمِنُ بِهِ وَنَتَوَكَّلُ عَلَيْهِ۔وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا وَ مِنْ سَيَاتِ أَعْمَالِنَا مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ۔وَمَنْ يُضَلِلُهُ فَلَا هَادِيَ لَهُ وَنَشْهَدُ أَنْ لا إلهَ إِلَّا الله و نَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ عِبَادَ اللَّهِ۔رَحِمَكُمُ الله۔إِنَّ اللّهَ يَا مُرُ بالعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَايْتَائُ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ۔أَذْكُرُ اللهَ يَذْكُرُكُمْ وَادْعُوهُ يَسْتَجِبْ لَكُمْ۔وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ۔ترجمہ :۔ہر قسم کی تعریف اللہ تعالیٰ کا حق ہے۔اس لئے ہم اس کی تعریف کرتے ہیں اور اسی سے مدد چاہتے ہیں اور اس کی مغفرت کے طالب ہیں اور اسی پر ایمان لاتے ہیں اور اسی پر توکل کرتے ہیں اور ہم اپنے نفس کے شرور اور اپنے اعمال کے بدنتائج سے اس کی پناہ چاہتے ہیں۔جسے اللہ تعالیٰ ہدایت دے اسے کوئی ابوداؤد كتاب الصلواة باب الصلواة بعد الجمعة و شرح السنة جلد ۳ ص ۴۴۹