نماز

by Other Authors

Page 3 of 61

نماز — Page 3

نہیں رکھنے دینا چاہئے کیونکہ اس سے انکی ذہنی وجسمانی ارتقاء پر بُرا اثر پڑتا ہے۔البتہ ایک آدھ روزہ جس کا اثر زیادہ نہ ہو بلوغت سے قبل رکھنے میں مضائقہ نہیں۔بحالت روزہ مسواک کرنا، تر کپڑا او پر لینا، بدن کو تیل لگانا،خوشبو سونگھنا یا گانا اور تھوک نگلنا جائز ہے۔رمضان المبارک میں نماز تراویح بعد نماز عشاء پڑھی جاتی ہے۔جو دراصل تہجد کی نماز ہے۔آخر شب پڑھنا افضل ہے تاہم سہولت کیلئے عمو مابعد نماز عشاء پڑھی جاتی ہے۔زكوة: از روئے قرآن زکوۃ دینے سے اموال میں برکت پڑتی ہے۔زکوۃ امام وقت کے پاس آکر خرچ ہونی چاہئے۔وصیت یا دوسرے طوعی چندوں کے باوجود زکوۃ فرض ہے۔مندرجہ ذیل چیزوں پر زکوۃ ہوتی ہے۔چاندی ، سونا، سکے ، اونٹ، گائے، بھینس، بکری، بھیٹر ، دنبہ (نرومادہ ) تمام غلے، کھجور، انگور، مالِ تجارت۔جس چیز پر زکوۃ واجب ہوتی ہے شریعت نے اسکی حد و مقدار مقرر کر رکھی ہے جسے نصاب کہتے ہیں۔غلوں، کھجوروں اور انگوروں پر زکوۃ صرف ایک دفعہ واجب ہے جبکہ انکی فصل تیار ہو جائے اور مالک کاٹ لے لیکن باقی چیزوں کیلئے ایک سال تک مالک کے پاس رہنا شرط ہے۔اور وہ بھی نصاب کے مطابق۔نصاب: چاندی ۵۷ توله ۴ ماشه، سونا ۸ تولہ ۴ ماشہ ان پر زکوۃ ۱٫۴۰ ہے لیکن زیر استعمال زیورات جو کبھی کبھی غرباء کو بھی عاریتاً برائے استعمال دیئے جائیں زکوۃ سے مستثنیٰ ہیں۔سکے اور کرنسی کا نصاب ۵۸ تولے ۴ ماشہ چاندی کی قیمت کے برابر ہے۔جو جانور جو تنے یالا دنے کے کام آتے ہیں اور جس زمین کالگان گورنمنٹ لیتی ہے اس پر زکوۃ نہیں ہے۔غلہ کا نصاب ۲۲ من ۲۵ سیر ہے۔اگر پانی قیمت ادا کر کے لیا ہو تو دسواں حصہ ہے۔(3)