نماز — Page 33
پیچھے کھڑے ہو کر پڑھیں گے۔۔اگر امام کا پڑھاتے وقت وضو ٹوٹ جائے تو وہ مقتدیوں میں سے کسی کو امام بنائے اور آپ الگ ہو جائے۔۳۱۔کوئی مقتدی امام سے آگے ہوکر نہیں پڑھ سکتا۔۳۳۔میں مسنون دُعاؤں کے علاوہ اپنی زبان میں بھی دُعائیں کرنی چاہئیں۔اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔” کے اندر اپنی زبان میں دُعا مانگنی چاہئے کیونکہ اپنی زبان میں دُعا مانگنے سے پورا جوش پیدا ہوتا ہے۔۔۔کے اندر ہر موقعہ پر دعا کی جاسکتی ہے۔رکوع میں، بعد تسبیح ، سجدہ میں بعد تسبیح ، التحیات کے بعد، کھڑے ہو کر ، رکوع کے بعد بہت دُعائیں کرو۔تا کہ مالا مال ہو جاؤ“۔( ملفوظات جلد نهم صفحه ۵۵) ۳۴۔ایک وقت کی بھی اگر جان بوجھ کر ترک کی جائے تو یہ کفر کی حالت کو پہنچادیتی ہے۔اس کیلئے بہت تو بہ اور استغفار کرنی چاہئے۔اگر کسی بھول کی وجہ سے کوئی رہ جائے تو قضا ادا کرے اور استغفار و توبہ لازم ہے۔میں کی جانے والی ایک دُعا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ میں کیا دُعا کروں؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا یہ دُعا پڑھا کرو: اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا وَلَا يَغْفِرُ النُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ اے اللہ میں نے اپنی جان پر بہت ظلم کیا۔اور تیرے سوا کوئی گناہ معاف کرنے والا نہیں۔فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ وَارْحَمْنِي (33)