نماز — Page 31
ہو تو فوراً اس میں شامل ہونا ضروری ہے۔۱۹ میں شامل ہونے کیلئے بھاگ کر جانا درست نہیں۔۲۰۔اگر کسی شخص نے پہلے وقت کی نہ پڑھی ہو اور دوسرے وقت کی کھڑی ہوگئی ہوا یسی صورت میں اسے پہلے وقت کی پہلے پڑھنی چاہئے۔اگر دوسرے وقت کی کا وقت اس قدر تنگ ہو گیا ہو کہ اگر پہلی پڑھے تو دوسری کا وقت گذر جائے گا تو ایسی صورت میں بعد والی پہلے ادا کرے اور جو پہلی اس کے ذمہ تھی اس کو پیچھے ڈال دے۔۲۱- اگر کسی وقت امام دو وں کو جمع کرے اور ی کو علم نہ ہو کہ کونسی ہے اور وہ جماعت میں شامل ہو جائے تو اس کی وہ ہوگی جو امام کی تھی۔اور دوسری بعد میں پڑھے مثلاً اگر امام عصر کی پڑھ رہا تھا اور ی اُسے ظہر سمجھ کر اس میں شریک ہوا تو وہ اس کی بھی عصر کی ہوگی اور ظہر کی قضاء وہ بعد میں ادا کرے گا۔لیکن اگر ی کو علم ہو جائے کہ امام عصر پڑھ رہا ہے تو اُسے ظہر بہر حال پہلے پڑھنی چاہئے۔اور پھر بعد میں عصر میں شریک ہو۔-۲۲ - اگر کوئی مقتدی سنتیں پڑھ رہا ہو اور اس اثناء میں کھڑی ہو جائے تو اس کو چاہئے کہ فوراً سلام پھیر کر با جماعت میں شامل ہو جائے۔اور سنتیں بعد میں پڑھ لے۔۲۳ - اگر امام چار رکعت پڑھا رہا ہو اور وہ درمیانی تشہد بھول کر تیسری رکعت کیلئے کھڑا ہونے لگے۔تو اگر اس کے گھٹنے سیدھے نہیں ہوئے اور وہ تشہد میں بیٹھ جائے تو سجدہ سہو کی ضرورت نہیں۔لیکن اگر وہ تیسری رکعت کیلئے پورا کھڑا ہو گیا ہے تو تشہد کیلئے نہ بیٹھے۔بلکہ تیسری رکعت پڑھے اور آخر میں سجدہ سہو کرے۔جو شخص دورکعت پڑھ رہا تھا۔بھول کر تیسری کیلئے کھڑا ہو گیا اور بعد میں اُسے یاد آ گیا کہ وہ پوری کر چکا ہے تو وہ اسی وقت بیٹھ جائے اور تشہد پڑھے اور اپنی پوری کرے۔لیکن اگر اس نے تیسری رکعت کا رکوع کر لیا اور پھر یاد آیا۔تو وہ فوراً تشہد کیلئے بیٹھ جائے اور آخر میں سلام سے پہلے سجدہ سہو کرے۔(31)