نماز عبادت کا مغز ہے

by Other Authors

Page 216 of 274

نماز عبادت کا مغز ہے — Page 216

216 ہے، حالانکہ نماز ایسی شئے ہے کہ جس سے ایک ذوق، اُنس اور سُرور بڑھتا ہے مگر جس طریق پر نماز ادا کی جاتی ہے اس سے حضور قلب نہیں ہوتا اور بے ذوقی اور بے لطفی پیدا ہوتی ہے۔میں نے اپنی جماعت کو یہی نصیحت کی ہے کہ وہ بے ذوقی اور بے حضوری پیدا کر نیوالی نماز نہ پڑھیں، بلکہ حضور قلب کی کوشش کریں جس سے اُن کو سُر ور اور ذوق حاصل ہو۔عام طور پر یہ حالت ہورہی ہے کہ نماز کو ایسے طور سے پڑھتے ہیں کہ جس میں حضور قلب کی کوشش نہیں کی جاتی بلکہ جلدی جلدی اس کوختم کیا جاتا ہے اور خارج نماز میں بہت کچھ دُعا کے لیے کرتے ہیں۔اور دیر تک دُعا مانگتے رہتے ہیں، حالانکہ نماز کا (جو مومن کی معراج ہے ) مقصود یہی ہے کہ اس میں دُعا کی جاوے اور اسی لیے اُمُّ الأدعِيَهُ، اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ دُعا مانگی جاتی ہے۔انسان کبھی خدا تعالیٰ کا قرب حاصل نہیں کرتا جب تک کہ اقام الصلواۃ نہ کرے۔أَقِيمُوا الصَّلوةَ اس لیے فرمایا کہ نماز گری پڑتی ہے مگر جو شخص اقام الصلواۃ کرتے ہیں وہ اس کی رُوحانی صورت سے فائدہ اُٹھاتے ہیں تو پھر وہ دُعا کی محویت میں ہو جاتے ہیں۔نماز ایک ایسا شربت ہے کہ جو ایک بار اسے پی لے اُسے فرصت ہی نہیں ہوتی اور وہ