نماز عبادت کا مغز ہے — Page 146
146 باب XVIII عبادت میں لذت اور راحت بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم کو نمازوں میں لذت نہیں آتی مگر وہ نہیں جانتے کہ لذت اپنے اختیار میں نہیں ہے اور لذت کا معیار بھی الگ ہے۔ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص اشد درجہ کی تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے مگر وہ اس تکلیف کو بھی لذت ا ا ہی سمجھ لیتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔غرض ساری لذت اور راحت دکھ کے بعد آتی ہے۔اسی لیے قرآن شریف میں یہ قاعدہ بتایا ہے۔إِنَّ مَعَ الْعُسْرِيسُرًا (الم نشرح ( 7 ) اگر کسی راحت سے پہلے تکلیف نہیں تو وہ راحت راحت ہی نہیں رہتی اسی طرح پر جو لوگ کہتے ہیں کہ ہم کو عبادت میں لذت نہیں آتی ان کو پہلے اپنی جگہ سوچ لینا ضروری ہے کہ وہ عبادت کے لیے کس قدر دُکھ اور تکالیف اُٹھاتے ہیں۔جس قدر دُکھ اور تکالیف انسان اُٹھائے گا۔وہی تبدیل صورت کے بعد لذت ہو جاتا ہے میری مراد ان دکھوں سے نہیں کہ انسان اپنے آپ کو بے جا مشقتوں میں ڈالے اور