نماز عبادت کا مغز ہے

by Other Authors

Page 145 of 274

نماز عبادت کا مغز ہے — Page 145

145 شاید اُن کی نمازوں میں حضور اور لذت پیدا ہو جاتی اس لیے میں حکماً آپ کو کہتا ہوں کہ سر دست آپ بالکل نماز کے بعد دُعا نہ کریں اور وہ لذت اور حضور جو دُعا کے لیے رکھا ہے، دُعاؤں کو نماز میں کرنے سے پیدا کریں۔میرا مطلب یہ نہیں کہ نماز کے بعد دُعا کرنی منع ہے لیکن میں چاہتا ہوں کہ جب تک نماز میں کافی لذت اور حضور پیدا نہ ہو نماز کے بعد دعا کرنے میں نماز کی لذت کو مت گنواؤ۔ہاں جب یہ حضور پیدا ہو جاوے تو کوئی حرج نہیں سو بہتر ہے نماز میں دعائیں اپنی زبان میں مانگو۔جو طبعی جوش کسی کی مادری زبان میں ہوتا ہے وہ ہرگز غیر زبان میں پیدا نہیں ہوسکتا۔سو نمازوں میں قرآن اور ماثورہ دعاؤں کے بعد اپنی ضرورتوں کو برنگ دُعا اپنی زبان میں خدا تعالی کے آگے پیش کرو تا کہ آہستہ آہستہ تم کو حلاوت پیدا ہو جائے سب سے عمدہ دُعا یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی رضامندی اور گناہوں سے نجات حاصل ہو۔کیونکہ گناہوں ہی سے دل سخت ہو جاتا اور انسان دنیا کا کیڑا بن جاتا ہے۔ہماری دُعا یہ ہونی چاہیے کہ خدا تعالیٰ ہم سے گناہوں کو جو دل کو سخت کر دیتے ہیں دُور کر دے اور اپنی رضامندی کی راہ دکھلائے۔( ملفوظات جلد چہارم ص 29 تا 30 )