نماز عبادت کا مغز ہے — Page 87
87 ہیں کہ اے ہمارے خدا ہم سب لوگوں کو اپنی سیدھی راہ دکھلا یہ معنی نہیں کہ مجھ کو اپنی سیدھی راہ دکھا۔پس اس طور کی دُعا سے جو جمع کے صیغہ کے ساتھ ہے بنی نوع کا حق بھی ادا ہو جاتا ہے۔اور تیسرے اس دُعا میں یہ سکھانا مقصود ہے کہ ہماری حالت کو صرف خشک ایمان تک محدود نہ رکھ بلکہ ہمیں وہ روحانی نعمتیں عطا کر جو تو نے پہلے راستبازوں کو دی ہیں اور پھر کہا کہ یہ دُعا بھی کرو کہ ہمیں ان لوگوں کی راہوں سے بچا جن کو روحانی آنکھیں عطا نہیں ہوئیں۔آخر انہوں نے ایسے کام کیے جن سے اسی دنیا میں غضب اُن پر نازل ہوا۔اور یا اس دنیا میں غضب سے تو بچے مگر گمراہی کی موت سے مرے اور آخرت کے غضب میں گرفتار ہوئے خلاصہ دُعا کا یہ ہے کہ جس کو خدا روحانی نعمتیں عطا نہ کرے اور دیکھنے والی آنکھیں نہ بخشے۔اور دل کو یقین اور معرفت سے نہ بھرے آخر وہ تباہ ہو جاتا ہے اور پھر اس کی شوخیوں اور شرارتوں کی وجہ سے اسی دنیا میں اس پر غضب پڑتا ہے۔کیونکہ وہ پاکوں کے حق میں بد زبانی کرتا ہے۔اور کتوں کیطرح زبان نکالتا ہے۔(نسیم دعوت ، روحانی خزائن جلد 19 ص 419 تا 420)