نماز عبادت کا مغز ہے — Page 221
221 کرنے کا تو کوئی وجود نہیں۔اگر دوروں کی وجہ سے انسان قصر کرنے لگے تو پھر یہ دائمی قصر ہوگا جس کا کوئی ثبوت ہمارے پاس نہیں ہے۔حکام کہاں مسافر کہلا سکتے ہیں۔سعدی نے بھی کہا ہے:۔منعم بکوه و دشت و بیاباں غریب نیست ہر جا کہ رفت خیمه زد و خوابگاه ساخت ( ملفوظات جلد سوم ، ص 227 ) ایک شخص کا سوال حضرت صاحب کی خدمت میں پیش ہوا کہ جو بسبب ملازمت کے ہمیشہ دورہ میں رہتا ہو اس کو نمازوں میں قصر کرنی جائز ہے یا نہیں؟ فرمایا: جو شخص دن رات دورہ پر رہتا ہے اور اسی بات کا ملازم ہے وہ حالت دورہ میں مسافر نہیں کہلا سکتا۔اس کو پوری نماز ہی پڑھنی چاہنے شخص کا سوال حضرت صاحب کی خدمت میں پیش ایک ہوا کہ نماز فجر کی اذان کے بعد دوگانہ فرض سے پہلے اگر کوئی شخص نوافل ادا کرے تو جائز ہے یا نہیں؟ فرمایا: ”نماز فجر کی اذان کے بعد سورج نکلنے تک دو رکعت