نماز عبادت کا مغز ہے — Page 163
163 ہے۔یا وہ لوگ جو قرآن شریف میں غور کرتے ہیں سمجھ لیں کہ نماز میں خشوع کی حالت روحانی وجود کے لیے ایک نطفہ ہے اور تخلفہ کی طرح روحانی طور پر انسان کامل کے تمام قومی اور صفات اور تمام نقش و نگار اسمیں مخفی ہیں۔اور جیسا کہ نطفہ اس وقت تک معرض خطر میں ہے جب تک کہ رحم سے تعلق نہ پکڑے ایسا ہی روحانی وجود کی ابتدائی حالت یعنی خشوع کی حالت اُس وقت تک خطرہ سے خالی نہیں جب تک کہ رحیم خدا سے تعلق نہ پکڑے۔(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد 21،ص،188 تا 189) اغویات سے کنارہ کشی تعلق باللہ پر دلیل ہے خشوع کی حالت کا بھی بھی دل پر وارد ہونا یا نماز میں ذوق اور سُرور حاصل ہونا یہ اور چیز ہے اور طہارتِ نفس اور چیز۔اور گو کسی سالک کا خشوع اور عجز و نیاز اور سوز و گداز بدعت اور شرک کی آمیزش سے پاک بھی ہوتا ہم ایسا آدمی جس کا وجود روحانی ابھی مرتبہ دوم تک نہیں پہنچا ابھی صرف قبلہ روحانی کا قصد کر رہا ہے اور راہ میں سرگردان ہے اور ہنوز اس کی راہ میں طرح طرح کے دشت و بیابان اور خارستان اور