نماز عبادت کا مغز ہے

by Other Authors

Page 134 of 274

نماز عبادت کا مغز ہے — Page 134

134 جیسے چور آوے اور وہ مال اُڑا کر لے جاوے تو اُس کا افسوس ہوتا ہے اور پھر انسان کوشش کرتا ہے کہ آئندہ اس خطرہ سے محفوظ رہے۔اس لیے معمول سے زیادہ ہشیاری اور مستعدی سے کام لیتا ہے۔اسی طرح پر جو خبیث نماز کے ذوق اور اُنس کو لے گیا ہے تو اس سے کس قدر ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے؟ اور کیوں نہ اس پر افسوس کیا جاوے؟ انسان جب یہ حالت دیکھے کہ اس کا اُنس و ذوق جاتا رہا ہے تو وہ بے فکر اور بے غم نہ ہو۔نماز میں بے ذوقی کا پیدا ہونا ایک سارق کی چوری اور روحانی بیماری ہے جیسے ایک مریض کے منہ کا ذائقہ بدل جاتا ہے تو وہ فی الفور علاج کی فکر کرتا ہے اسی طرح پر جس کا روحانی مذاق بگڑ جاوے اس کو بہت جلد اصلاح کی فکر کرنی لازم ہے۔یادرکھو انسان کے اندر ایک بڑا چشمہ لذت کا ہے جب کوئی گناہ اس سے سرزد ہوتا ہے سے سرزد ہوتا ہے تو وہ چشمہ لذت مکدر ہو جاتا ہے اور پھر لذت نہیں رہتی۔مثلاً جب ناحق گالی دیدیتا ہے یا ادنی ادنی سی بات پر بدمزاج ہوکر بدزبانی کرتا ہے تو پھر ذوق نماز جاتا رہتا ہے۔اخلاقی قوی کو لذت میں بہت بڑا دخل ہے۔جب انسانی قومی میں فرق آئے گا تو اس کے