نماز عبادت کا مغز ہے

by Other Authors

Page 135 of 274

نماز عبادت کا مغز ہے — Page 135

135 ساتھ ہی لذت میں بھی فرق آجاوے گا۔پس جب کبھی ایسی حالت ہو کہ اُنس اور ذوق جو نماز میں آتا تھا وہ جاتا رہا ہے تو چاہیے کہ تھک نہ جاوے اور بے حوصلہ ہو کر ہمت نہ ہارے بلکہ بڑی مستعدی کے ساتھ اس گمشدہ متاع کو حاصل کرنے کی فکر کرے اور اس کا علاج ہے۔تو بہ، استغفار، تضرع۔بے ذوقی سے ترک نماز نہ کرے بلکہ نماز کی اور کثرت کرے۔جیسے ایک نشہ باز کو جب نشہ نہیں آتا تو وہ نشہ کو چھوڑ نہیں دیتا بلکہ جام پر جام پیا جاتا ہے یہاں تک کہ آخر اس کو لذت اور سُرور آجاتا ہے۔پس جس کو نماز میں بے ذوقی پیدا ہو اس کو کثرت کے ساتھ نماز پڑھنی چاہئے اور تھکنا مناسب نہیں۔آخر ہی بے ذوقی میں ایک ذوق پیدا ہو جاوے گا۔دیکھو پانی کے لیے کس قدر زمین کو کھودنا پڑتا ہے۔جو لوگ تھک جاتے ہیں وہ محروم رہ جاتے ہیں۔جو تھکتے نہیں وہ آخر نکال ہی لیتے ہیں۔اس لیے اس ذوق کو حاصل کرنے کے لیے استغفار، کثرت نماز و دعا مستعدی اور صبر کی ضرورت ہے۔( ملفوظات جلد سوم ص 309 تا 310) نماز میں لذت اور ذوق حاصل کرنے کی دُعا اے اللہ تو مجھے دیکھتا ہے کہ میں کیسا اندھا اور نابینا