نماز عبادت کا مغز ہے — Page 102
102 باب XIII عبودیت اور ربوبیت کے رشتہ کی حقیقت عورت اور مرد کا جوڑا تو باطل اور عارضی جوڑا ہے۔میں کہتا ہوں حقیقی ابدی اور لذت مجسم جو جوڑ ہے وہ انسان اور خدا تعالی کا ہے۔مجھے سخت اضطراب ہوتا اور کبھی کبھی یہ رنج میری جان کو کھانے لگتا ہے کہ ایک دن اگر کسی کو روٹی یا کھانے کا مزا نہ آئے، تو طبیب کے پاس جاتا اور کیسی کیسی منتہیں اور خوشامدیں کرتا ہے۔روپیہ خرچ کرتا۔دُکھ اٹھا تا ہے کہ وہ مزاحاصل ہو وہ نامرد جو اپنی بیوی سے لذت حاصل نہیں کرسکتا۔بعض اوقات گھبرا گھبرا کر خودکشی کے ارادے تک پہنچ جاتا ہے اور اکثر موتیں اس قسم کی ہو جاتی ہیں۔مگر آہ ! وہ مریض دل وہ نامراد کیوں کوشش نہیں کرتا جس کو عبادت میں لذت نہیں آتی ؟ اس کی جان کیوں غم سے نڈھال نہیں ہو جاتی دنیا اور اس کی خوشیوں کے لیے کیا کچھ کرتا ہے مگر ابدی اور حقیقی راحتوں کی وہ پیاس اور تڑپ نہیں پاتا۔رکس قدر بے نصیب ہے! کیسا ہی محروم ہے! عارضی اور فانی لذتوں کی تلاش کرتا ہے اور پالیتا ہے۔کیا ہو سکتا ہے کہ مستقبل اور ابدی لذت