نماز عبادت کا مغز ہے — Page 101
101 مشروبات اور دوسری شہوات میں لذت اٹھاتے ہیں اس سے بہت بڑھ چڑھ کر وہ مومن متقی نماز میں لذت پاتا ہے۔اس لیے نماز کو خوب سنوار سنوار کر پڑھنا چاہیے۔نماز ساری ترقیوں کی جڑ اور زینہ ہے اسی لیے کہا گیا ہے کہ نماز مومن کی معراج ہے۔اس دین میں ہزاروں لاکھوں اولیاء اللہ ، راستباز ، ابدال ، قطب گذرے ہیں۔انھوں نے یہ مدارج اور مراتب کیونکر حاصل کیے ؟ اسی نماز کے ذریعہ سے خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں قُرَّةُ عَيْنِي فِي الصَّلوةِ یعنی میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے اور فی الحقیقت جب انسان اس مقام اور درجہ پر پہنچتا ہے تو اس کیلئے اکمل اتم لذت نماز ہی ہوتی ہے اور یہی معنی آنحضرت علی کے اس ارشاد کے ہیں۔پس کشاکش نفس سے انسان نجات پاکر اعلیٰ مقام پر پہنچ جاتا ہے۔غرض یاد رکھو کہ يُقِيمُونَ الصَّلوةَ وہ ابتدائی درجہ اور مرحلہ ہے جہاں نماز بے ذوقی اور کشاکش سے ادا کرتا ہے، لیکن اس کتاب کی ہدایت ایسے آدمی کیلئے یہ ہے کہ اس مرحلہ سے نجات پاکر اس مقام پر جا پہنچتا ہے جہاں نماز اسکے لیے قرۃ العین ہو جاوے۔یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اس مقام پر متقی سے مُراد وہ شخص ہے جو نفس لوامہ کی حالت میں ہے۔( ملفوظات چہارم ص 604 تا 606)