نماز عبادت کا مغز ہے

by Other Authors

Page 97 of 274

نماز عبادت کا مغز ہے — Page 97

97 قیام ہے۔کیونکہ دل اس پر قائم ہو جاتا ہے اور پھر سمجھا جاتا ہے کہ وہ کھڑا ہے۔حال کے موافق کھڑا ہو گیا، تا کہ روحانی قیام نصیب ہو۔پھر رکوع میں سُبحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ کہتا ہے۔قاعدہ کی بات ہے کہ جب کسی کی عظمت مان لیتے ہیں تو اس کے حضور جھکتے ہیں۔عظمت کا تقاضا ہے کہ اس کیلئے رکوع کرے۔پس سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ زبان سے کہا اور حال سے جھکنا دکھایا یہ اُس قول کے ساتھ حال دکھایا پھر تیسرا قول ہے سُبحَانَ رَبِّي الاعلى۔اعلی افعل تفضیل ہے۔یہ بالذات سجدہ کو چاہتا ہے۔اس لیے اُس کے ساتھ حالی تصویر سجدہ میں گرنا ہے۔اس اقرار کے مناسب حال ہیئت فی الفور اختیار کر لی۔اس قال کے ساتھ تین حال جسمانی ہیں۔ایک تصویر اس کے آگے پیش کی گئی ہے ہر ایک قسم کا قیام بھی کیا گیا ہے۔زبان جو جسم کا ٹکڑا ہے اس نے بھی کہا اور وہ شامل ہوگئی۔نماز میں وساوس کا علاج تیسری چیز اور ہے وہ اگر شامل نہ ہو، تو نماز نہیں ہوتی۔