نماز عبادت کا مغز ہے — Page 98
98 ، وہ کیا ہے؟ وہ قلب ہے۔اس کیلئے ضروری ہے کہ قلب کا قیام ہو۔اور اللہ تعالیٰ اس پر نظر کر کے دیکھے کہ در حقیقت وہ حمد بھی کرتا ہے اور کھڑا بھی ہے اور روح بھی کھڑا ہوا حمد کرتا ہے۔جسم ہی نہیں بلکہ روح بھی کھڑا ہوا ہے۔اور جب سبحان ربی العظیم کہتا ہے تو دیکھے کہ اتنا ہی نہیں کہ صرف عظمت کا اقرار ہی کیا ہے۔نہیں بلکہ ساتھ ہی جھکا بھی ہے اور اس کے ساتھ ہی روح بھی جھک گیا ہے۔پھر تیسری نظر میں خدا کے حضور سجدہ میں گرا ہے اسکی علوشان کو ملاحظہ میں لاکر اس کے ساتھ ہی دیکھے کہ رُوح بھی الوہیت کے آستانہ پر گری ہوئی ہے۔غرض یہ حالت جب تک پیدا نہ ہوئے۔اُس وقت تک مطمئن نہ ہو، کیونکہ یقیمون الصلواۃ کے معنی یہی ہیں۔اگر یہ سوال ہو کہ یہ حالت پیدا کیونکر ہو تو اسکا جواب اتنا ہی ہے کہ نماز پر مداومت کی جائے اور وساوس اور شبہات سے پریشان نہ ہو۔ابتدائی حالت میں شکوک وشبہات سے ایک جنگ ضرور ہوتی ہے اسکا علاج یہی ہے کہ نہ تھکنے والے استقلال اور صبر کے ساتھ لگا رہے اور خدا تعالیٰ سے دُعائیں مانگتا رہے آخر وہ حالت پیدا ہو جاتی ہے جسکا میں نے ابھی ذکر کیا ہے۔( ملفوظات جلد اوّل ، ص 287 تا 289)