نماز عبادت کا مغز ہے

by Other Authors

Page 26 of 274

نماز عبادت کا مغز ہے — Page 26

26 ناواقف تھے اور اس پر توجہ نہیں کرتے تھے۔اس پر بہت سے فرقے ایسے پیدا ہو گئے جنہوں نے نماز کی پابندیوں کو اُڑا کر اس کی جگہ چند وظیفے اور ورد قرار دے دیے کوئی نوشاہی ہے کوئی چشتی ہے کوئی کچھ کوئی کچھ۔یہ لوگ اندرونی طور پر اسلام اور احکام الہی پر حملہ کرتے ہیں اور شریعت کی پابندیوں کو توڑ کر ایک نئی شریعت قائم کرتے ہیں یقینا یاد رکھو کہ ہمیں اور ہر ایک طالب حق کو نماز ایسی نعمت کے ہوتے ہوئے کسی اور بدعت کی صلى الله ضرورت نہیں ہے۔آنحضرت ملے جب کسی تکلیف یا ابتلا کو دیکھتے تو فوراً نماز میں کھڑے ہو جاتے تھے اور ہمارا اپنا اور ان راستبازوں کا جو پہلے ہو گزرے ہیں ان سب کا تجربہ ہے کہ " نماز سے بڑھ کر خدا کی طرف لے جانے والی کوئی چیز نہیں جب انسان قیام کرتا ہے تو وہ ایک ادب کا طریق اختیار کرتا ہے۔ایک غلام جب اپنے آقا کے سامنے کھڑا ہوتا ہے تو وہ ہمیشہ دست بستہ کھڑا ہوتا ہے۔پھر رکوع بھی ادب ہے جو قیام سے بڑھ کر ہے اور سجدہ ادب کا انتہائی مقام ہے۔جب انسان اپنے آپ کو فنا کی حالت میں ڈال دیتا ہے اس وقت سجدہ میں گر پڑتا ہے۔افسوس ان نادانوں اور دنیا پرستوں