نماز عبادت کا مغز ہے — Page 254
254 آجاوے اور دروازے کو ہلا ہلا کر اور ٹھونک ٹھونک کر پکارے اور دفتر یا دوائی خانہ کی چابی مانگے تو ایسے وقت میں اسے کیا کرنا چاہیے۔اسی وجہ سے ایک شخص نوکری سے محروم ہو کر ہندوستان واپس چلا گیا ہے۔جواب :۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ: ایسی صورت میں ضروری تھا کہ وہ دروازہ کھول کر چابی افسر کو دے دیتا۔( یہ ہسپتال کا واقعہ ہے اس لیے فرمایا) کیونکہ اگر اس کے التوا سے کسی آدمی کی جان چلی جاوے تو یہ سخت معصیت ہوگی۔احادیث میں آیا ہے کہ نماز میں چل کر دروازہ کھول دیا جاوے تو اس سے نماز فاسد نہیں ہوتی۔ایسے ہی اگر لڑکے کو کسی خطرہ کا اندیشہ ہو یا کسی موذی جانور سے جو نظر پڑتا ہو ضرر پہنچتا ہو تو لڑکے کو بچانا اور جانور کو ماردینا اس حال میں کہ نماز پڑھ رہا ہے گناہ نہیں ہے اور نماز فاسد نہیں ہوتی، بلکہ بعضوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ گھوڑا کھل گیا ہو تو اُسے باندھ دینا بھی مفسد نماز نہیں ہے۔کیونکہ وقت کے اندر نماز تو پھر بھی۔پڑھ سکتا ہے۔نوٹ: یاد رکھنا چاہیے کہ اشد ضرورتوں کیلئے نازک مواقع پر یہ حکم ہے۔یہ نہیں کہ ہر ایک قسم کی رفع حاجت کو مقدم رکھ کر