نماز عبادت کا مغز ہے — Page 252
252 تھے۔اور ساتھ ہی کو ٹھڑی میں نماز ہونے لگی۔آدمی تھوڑے تھے ایک ہی کوٹھڑی میں جماعت ہو سکتی تھی۔بعض احباب نے خیال کیا کہ شاید حضرت اقدس اپنی کوٹھڑی میں ہی نماز ادا کرلیں گے، کیونکہ امام کی آواز وہاں پہنچتی ہے۔اس پر آپ نے فرمایا که جماعت کے ٹکڑے الگ الگ نہ ہونے چاہئیں بلکہ اکھٹی پڑھنی چاہیے۔ہم بھی وہاں ہی پڑھیں گے۔یہ اس صورت میں ہونا چاہیے جبکہ جگہ کی قلت ہو۔iii ڈاکٹر محمد اسمعیل خان صاحب گورداسپور میں مقیم تھے اور احمدی جماعت نزیل قادیان به باعث سفر میں ہونے کے نماز جمع کر کے ادا کرتی تھی۔ڈاکٹر صاحب نے مسئلہ پوچھا، حضرت اقدین نے فرمایا کہ مقیم پوری نماز ادا کریں وہ اس طرح ہوتی رہی کہ جماعت کے ساتھ ڈاکٹر صاحب نماز ادا کرتے جماعت دو رکعت ادا کرتی ، لیکن ڈاکٹر صاحب باقی کی دورکعت بعد از جماعت ادا کر لیتے۔ایک دفعہ حضرت اقدس نے دیکھ کر کہ ڈاکٹر صاحب نے ابھی دورکعت ادا کرنی ہے فرمایا کہ :