نماز عبادت کا مغز ہے — Page 249
249 فرمایا ہاں اگر کوئی حق ہے تو بذریعہ عدالت چارہ جوئی کرو۔فساد کرنا منع ہے۔کوئی دنگہ فساد نہ کرو“۔قضاء عمری ( ملفوظات جلد سوم ،ص 235) ایک صاحب نے سوال کیا کہ یہ قضاء عمری کیا شے ہے جو کہ لوگ (عید الاضحی) کے پیشتر جمہ کو ادا کرتے ہیں۔فرمایا ک ”میرے نزدیک یہ سب فضول باتیں ہیں ان کی نسبت وہی جواب ٹھیک ہے جو کہ حضرت علی نے ایک شخص کو دیا تھا جبکہ ایک شخص ایک ایسے وقت نماز ادا کر رہا تھا جس وقت میں نماز جائز نہیں۔اس کی شکایت حضرت علی کے پاس ہوئی تو آپ نے اسے جواب دیا کہ میں اس آیت کا مصداق نہیں بننا چاہتا اَرَ أَيتَ الَّذِي يَنْهَى عَبْدًا إِذَا صَلَّى (العلق: 10-11) یعنی تو نے دیکھا اس شخص کو جو ایک نماز پڑھتے بندے کو منع کرتا ہے۔نماز جو رہ جائے اسکا تدارک نہیں ہوسکتا ہاں روزہ کا ہو سکتا ہے۔اور جو شخص عمدا سال بھر اس لیے نماز کو ترک کرتا