نماز عبادت کا مغز ہے — Page 241
241 فاتحہ خلف الامام اس بات کا ذکر آیا کہ جو شخص جماعت کے اندر رکوع میں آکر شامل ہو اس کی رکعت ہوتی ہے یا نہیں۔حضرت اقدس نے دوسرے مولویوں کی رائے دریافت کی۔مختلف اسلامی فرقوں کے مذاہب اس امر کے متعلق بیان کیے گئے۔آخر حضرت نے فیصلہ دیا اور فرمایا: ”ہمارا مذہب تو یہی ہے کہ لَا صَلوةَ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الكتاب آدمی امام کے پیچھے ہو یا منفرد ہو۔ہر حالت میں اس کو چاہیے کہ سورۃ فاتحہ پڑھے مگر امام کو نہ چاہیے کہ جلدی جلدی سورۃ فاتحہ پڑھے بلکہ ٹھہر ٹھہر کر پڑھے تاکہ مقتدی سُن بھی لے اور اپنا پڑھ بھی لے۔یا ہر آیت کے بعد امام اتنا ٹھہر جائے کہ مقتدی بھی اس آیت کو پڑھ لے۔بہر حال مقتدی کو یہ موقع دینا چاہیے کہ وہ سُن بھی لے اور اپنا پڑھ بھی لے۔سورۃ فاتحہ کا پڑھنا ضروری ہے، کیونکہ وہ ام الکتاب ہے، لیکن جو شخص باوجود اپنی کوشش کے جو وہ نماز میں ملنے کیلئے کرتا ہے آخر رکوع میں ہی آکر ملا ہے اور اس سے پہلے نہیں مل سکا تو اس کی رکعت ہوگئی، اگر چہ اس نے سورۃ فاتحہ اس میں نہیں