نماز عبادت کا مغز ہے — Page 228
228 صلى الله ہوا۔اب بتاؤ کہ کیا یہ اُمور جو جمع نماز کے موجب ہوئے ہیں خود ہم نے پیدا کر لیے ہیں یا خدا تعالیٰ نے یہ تقریب پیدا کردی ہے؟ صحابہ نے اس پیشگوئی کو سُنا مگر پوری ہوتے نہیں دیکھا اور اب جو پیشگوئی پوری ہوئی اور انہیں اس کی خبر ملتی ہے تو انہیں کیسی لذت آتی ہے۔میں بیچ کہتا ہوں کہ جیسا اس پیشگوئی کے پورا ہونے سے ہم ایک لطف اور لذت اٹھارہے ہیں آسمان پر بھی ایک لذت ہے۔اس لیے کہ اس سے نبی کریم ﷺ کی بزرگی اور عظمت کا اظہار ہوتا ہے۔صوفیوں نے لکھا ہے کہ بعض زمینی امور ایسے ہوتے ہیں کہ آسمان پر اُن کی خبر دی جاتی ہے اور آنحضرت نے کی تائید میں جو کچھ ہوتا ہے، اس کی خبر دی جاتی ہے، اور اس کا انتشار ہوتا ہے غرض یہ بڑی عظیم الشان پیشگوئی ہے جس سے ہمارے رسول اللہ ﷺ کی تصدیق ہوتی ہے اُن کو حقیر سمجھنا گفر ہے۔یہ دوہرا نشان ہے۔ایک طرف ہماری صداقت کیلئے کیونکہ ہمارے لیے یہ نشان رکھا گیا تھا۔دوسری طرف خود رسول کریم ع کیلئے کہ آپ ﷺ کی فرمائی ہوئی پیشگوئی پوری ہوئی۔لوگ ناواقفی اور جہالت سے اعتراض کرتے ہیں، حالانکہ یہ امر بہت ہی قابل غور ہے۔کیا ہم نے خود ایسے امر