نماز عبادت کا مغز ہے — Page 219
219 ہے۔جس کو تم عرف میں سفر سمجھو ، وہی سفر ہے“۔سفر میں نمازوں کا قصر ( ملفوظات جلد اوّل ، ص 446) سوال پیش ہوا اگر کوئی تین کوس سفر پر جائے تو کیا نمازوں کو قصر کرے؟ فرمایا ہاں۔دیکھو اپنی نیت کو خوب دیکھ لو۔ایسی تمام باتوں میں تقویٰ کا بہت خیال رکھنا چاہیے۔اگر کوئی شخص ہر روز معمولی کاروبار یا سفر کیلئے جاتا ہے تو وہ سفر نہیں بلکہ سفر وہ ہے جسے انسان خصوصیت سے اختیار کرے اور صرف اس کام کیلئے گھر چھوڑ کر جائے اور عرف میں وہ سفر کہلاتا ہو۔دیکھو یوں تو ہم ہر روز سیر کیلئے دو دو میل نکل جاتے ہیں۔مگر یہ سفر نہیں ایسے موقعہ پر دل کے اطمینان کو دیکھ لینا چاہیے کہ اگر وہ بغیر کسی خلجان کے فتویٰ دے کہ یہ سفر ہے تو قصر کرے۔اِستَفْتِ قَلْبَكَ (اپنے دل سے فتویٰ لو) پر عمل چاہیے۔ہزار فتویٰ ہو۔پھر بھی مومن کا نیک نیتی سے قلبی اطمینان عمدہ شے ہے۔عرض کیا گیا کہ انسانوں کے حالات مختلف ہیں بعض تو دس کوس کو بھی سفر نہیں سمجھتے۔بعض کے لیے تین چار کوس بھی