نماز عبادت کا مغز ہے

by Other Authors

Page 212 of 274

نماز عبادت کا مغز ہے — Page 212

212 نماز کے اندر ہر موقع پر دعا کی جاسکتی ہے نماز کے اندر اپنی زبان میں دُعا مانگنی چاہیے کیونکہ اپنی زبان میں دُعا مانگنے سے پورا جوش پیدا ہوتا ہے۔سورۃ فاتحہ خدا تعالیٰ کا کلام ہے وہ اسی طرح عربی زبان میں پڑھنا چاہیے اور قرآن شریف کا حصہ جو اس کے بعد پڑھا جاتا ہے وہ بھی عربی زبان میں ہی پڑھنا چاہیے اور اس کے بعد مقررہ دعائیں اور تسبیح بھی اسی طرح عربی زبان میں پڑھنی چاہئیں لیکن ان سب کا ترجمہ سیکھ لینا چاہیے۔اور ان کے علاوہ پھر اپنی زبان میں دعائیں مانگنی چاہئیں تا کہ حضورِ دل پیدا ہو جاوے۔کیونکہ جس نماز میں حضور دل نہیں وہ نماز نہیں۔آجکل لوگوں کی عادت ہے کہ نماز تو ٹھونگے دار پڑھ لیتے ہیں۔جلدی جلدی نماز کو ادا کر لیتے ہیں جیسا کہ کوئی بیگار ہوتی ہے۔پھر پیچھے سے لمبی لمبی دعائیں مانگنا شروع کرتے ہیں۔یہ بدعت ہے۔حدیث ریف میں کسی جگہ اس کا ذکر نہیں آیا کہ نماز سے سلام پھیرنے کے بعد پھر دُعا کی جاوے۔نادان لوگ نماز کو تو ٹیکس جانتے ہیں اور دُعا کو اس سے علیحدہ کرتے ہیں۔نماز خود دُعا ہے۔دین و دنیا کی تمام مشکلات کے واسطے